شاہ سالم القادری بدایونی کا تعارف
تخلص : 'سالم'
اصلی نام : عبدالحمید
پیدائش : 11 Nov 1939 | بدایوں, اتر پردیش
وفات : 09 May 2001 | اتر پردیش, بھارت
رشتہ داروں : شاہ عبدالقادر بدایونی (دادا), شاہ عبدالمقتدر بدایونی (چچا), شاہ عبدالقدیر بدایونی (والد), اسیدالحق قادری (بیٹا)
عبدالحمید محمد سالم مولانا عبدالقدیر قادری کے فرزند اور بدایوں کے مولوی ٹولہ کے معزز عثمانی خاندان سے تعلق رکھتے تھے، آپ کی ولادت 26 شعبان 1358ھ مطابق 11 نومبر 1939ء کو حیدرآباد میں ہوئی جہاں اس وقت آپ کے والد والیٔ دکن کے دربار میں منصبِ مفتیِ اعظم پر فائز تھے، رسمِ تسمیہ خوانی کے بعد ہی آپ نے حفظِ قرآن کا آغاز کیا اور کم سنی ہی میں اس سعادت سے بہرہ ور ہوئے، درسیات کی تکمیل اپنے والدِ گرامی کے علاوہ مولانا محمد اقبال حسن قادری اور مفتی محمد ابراہیم جیسے جید اساتذہ سے کی، اس طرح آپ نے علومِ دینیہ میں ایک مضبوط علمی بنیاد قائم کی، والد کے وصال کے بعد 1960ء میں آپ کو بیعت و خلافت کی اجازت حاصل ہوئی اور آپ نے سلسلۂ طریقت میں رہنمائی و ارشاد کے فرائض سنبھالے، آپ کی شخصیت میں دینی وقار، روحانی سنجیدگی اور سادگی نمایاں تھی، ادبی ذوق آپ میں بچپن ہی سے موجود تھا، آپ نے اپنی شاعری کو صرف نعت و منقبت تک محدود رکھا اور اسی میدان میں اپنی فکری و جذباتی صلاحیتوں کا اظہار کیا، اگرچہ آپ نے کسی باقاعدہ استاد سے اصلاحِ سخن نہیں لی، تاہم آپ کا کلام فطری سلاست، عقیدت کی حرارت اور زبان کی شستگی کا آئینہ دار ہے، آپ کا ایک مختصر مگر دل نشیں مجموعہ "نوائے سروش" شائع ہو چکا ہے جو نعتیہ شاعری میں آپ کے خلوص اور والہانہ عشقِ رسول کا مظہر ہے، نثر کے میدان میں بھی آپ نے اپنی خدمات پیش کیں، "محبت، برکت اور زیارت" کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی جس میں دینی و روحانی موضوعات کو نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں بیان کیا گیا ہے۔