Font by Mehr Nastaliq Web
Shah Waliullah Dehlvi's Photo'

شاہ ولی اللہ دہلوی

1703 - 1762 | دہلی, بھارت

برصغیر کے ممتاز عالم دین

برصغیر کے ممتاز عالم دین

شاہ ولی اللہ دہلوی کے صوفی اقوال

افراد انسان میں مختلف استعدادیں پیدا کی گئی ہیں اور ہر شخص اپنی استعداد کے موافق کمال پیدا کرتا ہے۔

تمہارا کیا حال ہے ہر بری بھلی بات، ہر رطب و یابس پر تمہارا ایمان ہے، لوگوں کو تم جعلی اور گڑھی ہوئی حدیثوں کا وعظ سناتے ہو، خدا کی مخلوق پر تم نے زندگی تنگ کر چھوڑی ہے، حالاں کہ تم تو اس لیے پیدا ہوئے تھے کہ لوگوں کو آسانیاں بہم پہنچاؤ گے نہ کہ دشواریوں میں مبتلا کرو گے، تم ایسے لوگوں کی باتیں دلیل میں پیش کرتے ہو جو بیچارے مغلوب الحال اور عشق و محبت الٰہی میں عقل و حواس کھو بیٹھے تھے، حالاں کہ اہلِ عشق کی باتیں وہیں کی وہیں لپیٹ کر رکھ دی جاتی ہیں نہ کہ ان کا چرچہ کیا جاتا ہے، چاہیے کہ مقام احسان کی طرف لوگوں کو بلاؤ پہلے اسے خود سیکھ لو پھر دوسروں کو دعوت دو۔

اے آدم کے بچو! تم نے ایسے بگڑے ہوئے رسوم اختیار کر لیے ہیں جن سے دین کی اصلی صورت بگڑ گئی ہے، تم عاشورا کے دن جھوٹی باتوں پر اکٹھے ہوئے ہو، اسی طرح شب برات میں کھیل کود کرتے ہو اور مردوں کے لیے کھانے پکا پکا کر کھلانے کو اچھا خیال کرتے ہو، اگر تم سچے ہو تو اس کی دلیل پیش کرو، تم نے اپنی نمازیں برباد کر رکھی ہیں، تم میں کچھ لوگ ہیں جو دنیا کمانے میں اور اپنے دھندوں میں اتنے پھنس گیے ہیں کہ نماز کا انہیں وقت ہی نہیں ملتا، اسی طرح بعضوں نے روزے بھی چھوڑ رکھے ہیں۔

اے آدم کے بچو! دیکھو تمہارے اخلاق سو چکے ہیں، تم پر بیجا حرص سوار ہے، تم پر شیطان نے قابو پا لیا ہے، عوتیں مردوں کے سر چڑھ گئی ہیں اور مرد عورتوں کے حقوق برباد کر رہے ہیں، تمہیں اپنا محاسبہ کرنا چاہیے۔

اے امیرو! کیا تم خدا سے نہیں ڈرتے، دنیا کی فانی لذتوں میں تم ڈوبے جا رہے ہو اور جن لوگوں کی نگرانی تمہارے ذمہ سپرد ہوئی ہے ان کو تم نے چھوڑ دیا ہے تاکہ ان میں کے بعض بعض کو کھاتے اور نگلتے رہیں، کیا تم علانیہ شرابیں نہیں پیتے؟ پھر اپنے اس فعل کو تم برا بھی نہیں سمجھتے، اچھے کپڑوں اور اونچے مکانات کے سوا تمہاری توجہ اور کسی طرف متعطف نہیں ہوتی۔

حوادث کے اسباب میں سے ایک سبب بخت بھی ہے۔

اربابِ پیشہ! امانت کا جذبہ تم سے مفقود ہوگیا ہے، تم اپنے رب کی عبادت سے بالکل خالی الذہن ہوچکے ہو اور تم اپنے مرضی بنائے ہوئے معبودوں پر قربانیاں چڑھاتے ہو، تم میں بعض لوگ صرف شراب خواری کو پیشہ بنائے ہوئے ہیں اور تم ہی میں کچھ لوگ عورتوں کو کرایہ پر چلا کر پیٹ پالتے ہیں، یہ کیسا بدبخت آدمی ہے، اپنی دنیا و آخرت دونوں کو برباد کر رہا ہے، حالاں کہ خدا نے تمہارے لیے مختلف قسم کے پیشے اور کھانے کھانے کے دروازے کھول رکھے ہیں جو تمہاری اور تمہارے متعلقین کی ضرورتوں کے لیے کافی ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ تم اعتدال کی راہ اپنے خرچ میں اختیار کرو۔

عام لوگوں سے مصاحبت میل جول دو شرطوں کی بجائے آوری کے ساتھ رکھو، ایک تو یہ کہ ان کے مال و دولت سے امید کو منقطع کر لو، جو تمہاری قسمت کا ہوگا وہ بغیر تمہارے قصد و ارادہ کے مل کر رہے گا اور دوسری شرط یہ کہ ہر شخص کے ساتھ خوش خلقی کا سلوک کرو خواہ وہ امیر ہو یا غریب، مشہور ہو یا گمنام اور جو شخص اس کے باوجود تم سے عداوت رکھے تو تم صبر کرو۔

It is fact that a Sufi in his spiritual journey experiences such tealities which a profound philosopher and learned men fail to attain even after a very long period of trial and tribulation.

It is fact that a Sufi in his spiritual journey experiences such tealities which a profound philosopher and learned men fail to attain even after a very long period of trial and tribulation.

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے