Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

ظہور پھلواروی

1772 - 1818 | پٹنہ, بھارت

پٹنہ کے صوفی شاعر اور مصنف تھے، سلسلۂ عمادیہ کے تیسرے سجادہ نشیں رہے اور عربی، فارسی و اردو میں تقریباً سو تصانیف لکھیں، ان کا منظوم کلام تصوف کی تعلیمات کا ترجمان ہے۔

پٹنہ کے صوفی شاعر اور مصنف تھے، سلسلۂ عمادیہ کے تیسرے سجادہ نشیں رہے اور عربی، فارسی و اردو میں تقریباً سو تصانیف لکھیں، ان کا منظوم کلام تصوف کی تعلیمات کا ترجمان ہے۔

ظہور پھلواروی کا تعارف

تخلص : 'ظہور'

اصلی نام : ظہور الحق

پیدائش :پھلواری شریف, بہار

وفات : پھلواری شریف, بہار, بھارت

رشتہ داروں : تپاں پھلواروی (والد)

ظہور پھلواروی 1185ھ میں عالمِ وجود میں تشریف لائے، آپ کا سلسلۂ نسب کئی واسطوں سے حضرت جعفرِ طیار تک پہنچتا ہے، علومِ ظاہری کی تحصیل پیر مجیب اللہ اور والد شاہ نورالحق تپاں کی سرپرستی میں کی، آپ کو تصنیف و تالیف سے غیر معمولی شغف تھا، تذکرۃ الصالحین کے مصنف حسیب اللہ عمادی نے آپ کی تصانیف کی تعداد ایک سو بیان کی ہے جو عربی، فارسی اور اردو زبانوں میں ہیں، آپ نے اپنے والد شاہ نورالحق تپاں کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور ان کے سجادہ نشیں ہوئے، سلسلۂ عمادیہ میں آپ تیسرے سجادہ نشیں کی حیثیت سے ممتاز ہیں، آپ ہی کے عہد میں خانقاہ عمادیہ پھلواری شریف سے منتقل ہو کر منگل تالاب پہنچی، 1234ھ میں پٹنہ ہی میں آپ کا وصال ہوا، تاہم تدفین آپ کے آبائی وطن پھلواری شریف میں عمل میں آئی، آپ نے اپنے منظوم کلام کے ذریعے تصوف کی تعلیمات کی ترویج و اشاعت میں گراں قدر خدمات انجام دیں۔

Recitation

بولیے