عابد بریلوی کا تعارف
عابد بریلوی اردو نعتیہ شاعری کے ممتاز اور کہنہ مشق شاعر تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی عشقِ رسول کے جذبات کو شعری پیرایے میں پیش کرنے میں صرف کی، آپ 2 جنوری 1942ء کو بریلی کے شہامت گنج پیدا ہوئے، یہ خطہ دینی روحانی اور ادبی روایات کے اعتبار سے خاص اہمیت رکھتا ہے جس کے اثرات عابد بریلوی کی شخصیت اور شاعری میں نمایاں طور پر دکھائی دیتے ہیں۔
عابد بریلوی فطری طور پر شعری ذوق رکھتے تھے، اگرچہ انہوں نے کسی باقاعدہ استادِ سخن سے اصلاح نہیں لی، تاہم اپنی خداداد صلاحیت، وسیع مطالعہ اور مسلسل ریاضت کے باعث نعتیہ شاعری میں منفرد مقام حاصل کیا، ان کے کلام میں عشقِ مصطفیٰ کی سچائی، وارفتگی، سوز و گداز اور عقیدت کی گہری کیفیت پائی جاتی ہے، ان کی نعتیں سادگیِ بیان، فصاحت، روانی اور اثر آفرینی کے اعتبار سے اہلِ ذوق میں مقبول رہیں، روحانی اعتبار سے عابد بریلوی کو حضرت شاہ محمد نظام الدین حیدری نیازی مشکوری سے گہری عقیدت تھی اور وہ ان کے حلقۂ ارادت سے وابستہ تھے، اس روحانی نسبت نے ان کی شخصیت میں عاجزی، محبتِ اہلِ بیت اور عشقِ رسول کے جذبات کو مزید جلا بخشی، ان کی شاعری میں تصوف کی لطافت اور روحانی وارفتگی کی جھلک بھی نمایاں نظر آتی ہے، عابد بریلوی نے نعتیہ شاعری کو محض اظہارِ عقیدت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اصلاحِ فکر، تطہیرِ قلب اور محبتِ رسول کے فروغ کا ذریعہ بنایا، ان کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے خلوصِ دل اور فنی وقار کے ساتھ نعتیہ ادب کی خدمت کی، 2008ء میں ان کا انتقال ہوا مگر ان کا نعتیہ سرمایہ آج بھی اہلِ عشق کے دلوں کو منور کر رہا ہے، اردو نعتیہ ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔