ابرار بدایونی کا تعارف
محمد ابرار علی بن محمد اسرار علی شائق بدایونی، بدایوں کے محلہ قاضی ٹولہ میں خاندانِ بنو حمید کے ایک معزز گھرانے میں جون 1924ء کو پیدا ہوئے، ابتدائی و ثانوی تعلیم اسلامیہ ہائی اسکول، بدایوں میں حاصل کی، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں زیرِ تعلیم رہے، 1948ء میں وہ پاکستان منتقل ہوگئے اور دسمبر 1948ء سے اسلام آباد میں ملازمت سے وابستہ ہوگئے، روحانی طور پر وہ سلسلۂ چشتیہ و مذاقیہ میں اپنے والد کے مرید و خلیفہ تھے، بدایوں میں قیام کے دوران انہوں نے لطف بدایونی اور ان کے برادر میخوار بدایونی سے اصلاحِ سخن کے سلسلے میں مشورہ لیا، جبکہ کراچی میں مولانا اسعد شاہجہانپوری سے علمی استفادہ کیا، ابرار کو نثر و نظم دونوں پر یکساں عبور حاصل تھا، انہوں نے اپنے جد امجد کی سوانح آئینۂ دلدار (کراچی، 1956ء) اور خواجہ معین الدین چشتی کی سوانح پیرِ سنجر (اسلام آباد، 1992ء) تصنیف کی، علاوہ ازیں عیدین کے مسائل پر عیدنامہ (راولپنڈی، 1984ء) کے عنوان سے ایک رسالہ بھی شائع کیا، ان کے کلام کا ایک مجموعہ صد رنگ 1978ء میں انجمن پریس، کراچی سے ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کے مقدمے کے ساتھ شائع ہوا، جس میں نعت و منقبت کی وافر مقدار شامل ہے، ان کی شخصیت ادب، تصوف اور دینی فکر کا حسین امتزاج تھی۔