Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

ابو اسحٰق ابراہیم شیبانی

- 941 | ایران

چوتھی صدی ہجری کے جلیل القدر صوفی، زاہد اور اہلِ سنت کے اکابر میں شمار ہوتے ہیں، اتباعِ سنت، زہد و تقویٰ اور مجاہدۂ نفس آپ کی نمایاں خصوصیات تھیں، جبکہ توکل، اخلاص اور تزکیۂ نفس سے متعلق آپ کے حکیمانہ اقوال اہلِ تصوف میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

چوتھی صدی ہجری کے جلیل القدر صوفی، زاہد اور اہلِ سنت کے اکابر میں شمار ہوتے ہیں، اتباعِ سنت، زہد و تقویٰ اور مجاہدۂ نفس آپ کی نمایاں خصوصیات تھیں، جبکہ توکل، اخلاص اور تزکیۂ نفس سے متعلق آپ کے حکیمانہ اقوال اہلِ تصوف میں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

ابو اسحٰق ابراہیم شیبانی کا تعارف

تخلص : 'shaibaani'

اصلی نام : ابراہیم

وفات : ایران

اسحٰق ابراہیم بن شیبان قرمیسینی چوتھی صدی ہجری کے جلیل القدر صوفیہ اور اہلِ سنت کے ممتاز اکابر میں شمار ہوتے ہیں، آپ زہد و تقویٰ، اتباعِ سنت، حسنِ اخلاق اور مجاہدۂ نفس کے اعتبار سے اپنے عہد میں بلند مقام رکھتے تھے، ابو عبدالرحمٰن سلمی نے آپ کے بارے میں لکھا ہے کہ اپنے زمانے میں تقویٰ اور پرہیزگاری کے ایسے مقامات پر فائز تھے جو صرف خواصِ اہلِ اللہ ہی کو حاصل ہوتے ہیں، آپ جھوٹے مدعیانِ تصوف کے خلاف سخت موقف رکھتے تھے، قرآن و سنت کے پابند تھے اور سلفِ صالحین و اکابر مشائخ کے طریقے پر گامزن تھے، عبداللہ بن محمد بن منازل نے آپ کو فقرا، اہلِ اخلاق اور اربابِ معاملات کے لیے خدا کی حجت قرار دیا ہے۔
آپ نے طلبِ علم اور حصولِ معرفت کے لیے مختلف علاقوں کا سفر کیا، دورانِ سفر معان سے گزرے اور بعد ازاں قرمیسین جو موجودہ کرمانشاہ کے علاقے میں واقع تھا میں قیام پذیر ہوئے، آپ نے علی بن حسن بن ابی عنبر سے روایت کی اور ابو عبداللہ مغربی اور ابراہیم خواص جیسے نامور مشائخ کی صحبت سے فیض حاصل کیا، آپ سے روایت کرنے والوں میں ابو زید محمد بن احمد مروزی، حسن بن ابراہیم قرمیسینی، محمد بن عبداللہ بن شاذان رازی، عبدالرحمٰن بن عبداللہ الدقاق اور محمد بن محمد بن ثوابہ کے نام قابلِ ذکر ہیں، آپ کے اقوال میں زہد، معرفت، توکل اور تزکیۂ نفس کی گہری جھلک نمایاں ہے، آپ فرماتے تھے کہ جب خوفِ الٰہی دل میں جاگزیں ہو جاتا ہے تو وہ خواہشات کے مراکز کو جلا دیتا ہے اور دنیا کی محبت کو دل سے نکال دیتا ہے، آپ کے نزدیک بندے کا بہترین عمل اپنے وقت کی حفاظت ہے اور عارف وہ ہے جو اپنے دل کو اپنے رب کے لیے اور اپنے جسم کو اس کی مخلوق کی خدمت کے لیے وقف کر دے، آپ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ بندے کو اپنے رب کی جانب سے ملنے والی سب سے بڑی نعمت دل کی نصیحت اور گناہوں سے سچی توبہ ہے، توکل کے بارے میں آپ کا قول ہے کہ یہ بندے اور اس کے رب کے درمیان ایک راز ہے جس سے کسی دوسرے کو آگاہ نہیں ہونا چاہیے، آپ کا انتقال 330ھ میں کرمانشاہ میں ہوا، اگرچہ بعض مؤرخین نے 337ھ کا بھی ذکر کیا ہے، تاہم پہلا قول زیادہ معتبر سمجھا جاتا ہے، آپ نے اپنی علمی، روحانی اور اخلاقی زندگی کے ذریعے سنی تصوف کی اس خالص روایت کی نمائندگی کی جو شریعت کی پابندی، اخلاص، تقویٰ اور خدمتِ خلق پر استوار ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے