اختر رضوانی کا تعارف
اختر رضوانی کا تعلق پنجاب سے تھا، ان کی پیدائش تقریباً 1912ء میں ہوئی، عملی زندگی میں وہ صحافت، شعر و شاعری اور تصنیف و تالیف سے وابستہ رہے اور ان میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں، رباعی نگاری میں غیر معمولی مہارت کے باعث وہ "بابائے رباعیات" کے لقب سے معروف ہوئے، ان کی ادبی خدمات متعدد اہم تصانیف کی صورت میں محفوظ ہیں، جن میں نقشِ مستقل، رنگ و سرور، حدیثِ غم، سنگ و آئینہ، نئے عنوان، عکسِ جمیل، خد و خال اور حاصلِ غم خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں، ان کے نعتیہ کلام میں حضرت محمد رسول اللہ سے عقیدت و محبت کا اظہار نہایت سادہ، پُرخلوص اور مؤثر انداز میں ملتا ہے۔