بیدل سرحدی کا تعارف
تخلص : 'بیدل'
اصلی نام : منوہر لعل آہوجہ
پیدائش : 10 Nov 1930 | پنجاب
رشتہ داروں : ابر احسنی (مرشد)
بیدل سرحدی کا شمار ان ممتاز اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے تحقیق، تنقید، افسانہ نگاری اور شاعری کے میدان میں اپنی علمی و ادبی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا، وہ 10 نومبر 1930ء کو ڈیرہ اسمعٰیل خاں میں پیدا ہوئے، فطری ذہانت، مطالعے کے شوق اور علمی ذوق نے ابتدائی ہی دور سے انہیں ادب کی جانب مائل کیا، جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی علمی استعداد کو باقاعدہ تعلیم کے ذریعے جلا بخشی، تعلیمی میدان میں انہوں نے جامعہ اردو، علی گڑھ سے ادیبِ کامل اور معلمِ اردو کی اسناد حاصل کیں، بعد ازاں آگرہ یونیورسٹی سے انگریزی زبان و ادب میں ایم۔اے کی ڈگری حاصل کرکے اپنے علمی افق کو مزید وسعت بخشی، ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز انہوں نے 1950ء میں نثر نگاری سے کیا، ابتدا ہی سے تحقیق اور تنقید ان کی خصوصی دلچسپی کے میدان رہے، تاہم انہوں نے افسانہ نگاری میں بھی مسلسل قلم آزمایا اور اس صنف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا کامیاب اظہار کیا، پیشہ ورانہ زندگی میں وہ محکمۂ ٹیلی فونز میں ٹیکنیکل سپروائزر کے منصب پر فائز رہے لیکن ملازمت کی مصروفیات کے باوجود ادب سے ان کا تعلق کبھی منقطع نہ ہوا، 1956ء میں انہوں نے باقاعدہ شاعری کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی کا آغاز کیا، غزل، قطعات اور رباعیات ان کی محبوب اصناف تھیں، ان کے متعدد شعری مجموعے شائع ہوئے، شاعری تربیت کے سلسلے میں تقریباً ایک سال تک انہوں نے سحابِ سخن ابر حسنی گنوری سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، بعد ازاں خاموش سرحدی سے بھی اصلاحِ سخن لی، اگرچہ بیدل سرحدی کی بنیادی شناخت ایک شاعر، محقق، نقاد اور افسانہ نگار کی ہے، تاہم انہوں نے نعتیہ شاعری میں بھی اپنی والہانہ عقیدت کا اظہار کیا، ان کی نعتوں میں عشقِ رسول، ادبِ بارگاہِ نبوی اور روحانی وارفتگی کے جذبات نہایت سادہ، پُرخلوص اور مؤثر انداز میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔