بینی نارائن کا تعارف
اصلی نام : بینی نارائن
بینی نارائن ایک صاحبِ ذوق ادیب، شاعر اور تذکرہ نگار تھے، وہ مہاراجہ لکشمی نارائن کے فرزند اور رائے کھیم نارائن رند کے بھائی تھے، ابتدائی زمانۂ قیام لاہور میں گزرا جہاں وہ علمی و ادبی حلقوں سے وابستہ رہے اور اہلِ قلم کی صحبتوں سے فیضیاب ہوئے، ان کی نمایاں تصنیف "ایوانِ جہاں" ہے جس میں اردو کے متعدد شعرا کے منتخب کلام کو یکجا کیا گیا ہے، یہ کتاب ان کے ذوقِ انتخاب، ادبی بصیرت اور تذکرہ نگاری کے سلیقے کی آئینہ دار ہے، زندگی کے ابتدائی ایام خوش حالی اور آسودگی میں بسر ہوئے لیکن گردشِ زمانہ نے انہیں لاہور ترک کرکے کلکتہ جانے پر مجبور کر دیا، وہاں بھی حالات موافق نہ رہے اور تقریباً بارہ برس تک انھیں شدید مالی اور معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، بالآخر حیدر بخش قابل کی خصوصی توجہ اور کاوش سے ان کی ملاقات ہندوستان زبان داں روبک سے ہوئی، جنہوں نے انہیں اپنی ملازمت میں جگہ دی، اسی دور میں انہوں نے اپنی مشہور تصنیف "ایوانِ جہاں" کی ترتیب و تدوین کا کام مکمل کیا، ان کی ایک اور تصنیف "قصۂ شاہ درویش" بھی اہلِ ادب میں معروف ہے، تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ شاعری میں بھی ان کا ذوق نمایاں تھا، انہوں نے نعتیہ اشعار بھی کہے جن میں عشقِ رسولِ اکرم، عقیدتِ نبوی اور دینی جذبات کا نہایت سادہ مگر مؤثر اظہار ملتا ہے، اگرچہ ان کی ادبی شہرت زیادہ تر ان کی تصنیفی خدمات کی مرہونِ منت ہے، تاہم ان کا نعتیہ کلام بھی ان کے ادبی سرمایے کا ایک اہم اور قابلِ قدر حصہ ہے۔