Font by Mehr Nastaliq Web
Bishr Hafi's Photo'

बिश्र हाफ़ी

769 - 841 | बग़दाद, इराक़

बिश्र हाफ़ी के सूफ़ी उद्धरण

श्रेणीबद्ध करें

जो आज़ादी चाहता है, उसे अपने और ख़ुदा के बीच के राज़ की पाकीज़गी बरक़रार रखनी चाहिए।

जो अपनी इबादत की मिठास चखना चाहे, उसे चाहिए कि अपनी सोच को पाक रखे।

दुनिया में इज़्ज़त दिलाने वाली तीन चीज़ें।

दूसरों के मेहमानों के साथ जाओ। दूसरों के ऐब और गुनाह तलाशो। अपनी ज़रूरतों को दुनिया के लोगों के सामने ज़ाहिर करो।

तीन काम बहुत मुश्किल से होते हैं - ग़रीबी में दान, डर के वक़्त में सच्चाई और अकेले में ख़ुदा का ख़ौफ़।

अगर बोलना तुम्हें अच्छा लगता है, तो चुप रहो। अगर चुप रहना तुम्हे अच्छा लगता है, तो बोलो।

जिस इंसान को दुनियावी चीज़ों से लगाव है, वो जन्नत की शानदार चीज़ों से महरूम रहेगा।

خدا نے انسان کو صبر اور معرفت سے بڑھ کر کوئی عظیم عطیہ نہیں دیا۔

جو دنیاوی عزت کا خواہاں ہو اسے تین چیزوں سے بچنا چاہیے۔

اپنی حاجت مخلوق کے سامنے ظاہر کرنا، دوسروں کی خطائیں ڈھونڈنا اور دوسروں کے مہمانوں کے ساتھ گھلنا ملنا۔

تین کام بہت مشکل ہیں۔

(۱) فقیری میں سخاوت کرنا۔

(۲) خوف کی حالت میں سچ بولنا۔

(۳) تنہائی میں پرہیزگاری اختیار کرنا۔

اگر بولنا تجھے بھاتا ہے تو خاموش رہ اور اگر خاموشی تجھے محبوب ہے تو بول۔

قناعت انسان کو دنیا میں عزت دیتی ہے اور یہ چاہنا کہ لوگ ہمیں بڑا سمجھیں، دنیا کی محبت کی نشانی ہے۔

تزکیہ وہ بادشاہ ہے جو کہیں نہیں ٹھہرتا مگر خالی دل میں۔

پانی جتنا بہتا رہتا ہے صاف رہتا ہے مگر رک جائے تو گندہ ہو کر کیچڑ بن جاتا ہے۔

جب تک بندہ اپنے ناپاک نفس کے گرد فولادی دیوار نہ کھڑی کرے، وہ عبادت کی لذت نہیں چکھ سکتا۔

جو دنیا کی لذتوں کا چاہنے والا ہو، اسے آسمانی مقام کی نعمتوں سے محرومی ہوتی ہے۔

جو شخص اپنی عبادت کی مٹھاس چکھنا چاہتا ہے، اسے اپنے خیالات کو پاک رکھنا چاہیے۔

میں کبھی دنیاوی لوگوں کی محفل میں بیٹھنا پسند نہ کروں اور وہ بھی میری صحبت میں بیٹھنا پسند نہ کرتے۔

بہت سردی کے دن کسی نے بشر حافی کو کپڑے اتار کر کانپتے ہوئے دیکھا اور پوچھا کہ اتنے کم کیوں پہنے ہو؟

آپ نے کہا کہ میں غریبوں اور ان کی حالت کو یاد کرتا ہوں اور میرے پاس کچھ دینے کو نہیں، اس لیے میں نے چاہا کہ ان کی طرح سردی سہوں‘‘

صرف وہی بندے خدا کے منتخب خادم ہوتے ہیں جنہیں عرفانِ الٰہی حاصل ہوتا ہے، یہ بہترین روحیں ہیں جنہیں سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا اور نہ کوئی عزت دیتا ہے۔

خوفِ خدا ایک بادشاہ ہے جو صرف پرہیزگار کے دل میں بستا ہے۔

یقین کی سب سے بڑی منزل صبر کے ساتھ تنگ دستی سہنا ہے جو زندگی بھر اور قبر تک قائم رہے۔

جو خلوصِ نیت سے اس کی عبادت کرتا ہے وہ لوگوں کے خوف سے آزاد رہتا ہے۔

اگر عزتِ دنیا چاہے تو تین چیزوں سے دور رہ جیسے مخلوق سے کو کوئی حاجت طلب نہ کر، کسی کو برا نہ کہہ اور کسی کا مہمان نہ بن۔

خلوت میں گناہ سے باز رہنا مقبولوں کا کام ہے۔

سب سے مشکل تین کام ہیں، اول تنگ دستی میں سخاوت، دوم خلوت میں پرہیزگاری اور سوم جابر ظالم کے سامنے حق بات کہنا۔

اگر بندہ ساری عمر شکر کے سجدہ میں پڑا رہے تو بھی اس کا شکر نہ ادا ہو۔

وہ شخص آخرت کی حلاوت نہ پائے گا جو اس بات کا طالب ہو کہ لوگ مجھے بڑا عالم یا زاہد یا سخی جانیں یا بڑا غازی یا قاری یا حافظ یا حاجی سمجھیں۔

اگر تو خدا کی عبادت نہیں کر سکتا تو اس کی نافرمانی بھی نہ کر اور گناہ سے باز رہ۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

बोलिए