Font by Mehr Nastaliq Web
Bishr Hafi's Photo'

بشر حافی

769 - 841 | بغداد, عراق

بشر حافی ایک بلند پایہ صوفی بزرگ تھے جنہوں نے دنیا کی فانی نعمتوں کو ترک کر کے عشقِ الٰہی میں فنا کی بلند منزل حاصل کی اور اپنی سادگی و تقویٰ کی علامت کے طور پر تا آخر عمر پاؤں میں کبھی چپل نہ پہنی۔

بشر حافی ایک بلند پایہ صوفی بزرگ تھے جنہوں نے دنیا کی فانی نعمتوں کو ترک کر کے عشقِ الٰہی میں فنا کی بلند منزل حاصل کی اور اپنی سادگی و تقویٰ کی علامت کے طور پر تا آخر عمر پاؤں میں کبھی چپل نہ پہنی۔

بشر حافی کے صوفی اقوال

باعتبار

جو آزادی چاہتا ہے اسے اپنے اور خدا کے بیچ کے راز کی پاکیزگی برقرار رکھنی چاہیے۔

خلوت میں گناہ سے باز رہنا مقبولوں کا کام ہے۔

تزکیہ وہ بادشاہ ہے جو کہیں نہیں ٹھہرتا مگر خالی دل میں۔

پانی جتنا بہتا رہتا ہے صاف رہتا ہے مگر رک جائے تو گندہ ہو کر کیچڑ بن جاتا ہے۔

اگر عزتِ دنیا چاہے تو تین چیزوں سے دور رہ جیسے مخلوق سے کو کوئی حاجت طلب نہ کر، کسی کو برا نہ کہہ اور کسی کا مہمان نہ بن۔

جو اپنی عبادت کی مٹھاس چکھنا چاہے، اسے چاہیے کہ اپنی سوچ کو پاک رکھے۔

قناعت انسان کو دنیا میں عزت دیتی ہے اور یہ چاہنا کہ لوگ ہمیں بڑا سمجھیں، دنیا کی محبت کی نشانی ہے۔

سب سے مشکل تین کام ہیں، اول تنگ دستی میں سخاوت، دوم خلوت میں پرہیزگاری اور سوم جابر ظالم کے سامنے حق بات کہنا۔

جو دنیاوی عزت کا خواہاں ہو اسے تین چیزوں سے بچنا چاہیے۔

اپنی حاجت مخلوق کے سامنے ظاہر کرنا، دوسروں کی خطائیں ڈھونڈنا اور دوسروں کے مہمانوں کے ساتھ گھلنا ملنا۔

وہ شخص آخرت کی حلاوت نہ پائے گا جو اس بات کا طالب ہو کہ لوگ مجھے بڑا عالم یا زاہد یا سخی جانیں یا بڑا غازی یا قاری یا حافظ یا حاجی سمجھیں۔

اگر تو خدا کی عبادت نہیں کر سکتا تو اس کی نافرمانی بھی نہ کر اور گناہ سے باز رہ۔

دنیا میں عزت دلانے والی تین چیزیں ہوتی ہیں۔

دوسروں کے مہمانوں کے ساتھ نہ جاؤ، دوسروں کے عیب اور گناہ نہ تلاشو اور اپنی ضرورتوں کو دنیا کے لوگوں کے سامنے ظاہر نہ کرو۔

تین کام بہت مشکل سے ہوتے ہیں، غربت میں صدقہ، ڈر کے وقت میں سچائی اور اکیلے میں خدا کا خوف۔

اگر بولنا تمہیں اچھا لگتا ہے تو چپ رہو، اگر چپ رہنا تمہیں اچھا لگتا ہے تو بولو۔

تین کام بہت مشکل ہیں۔

(۱) فقیری میں سخاوت کرنا۔

(۲) خوف کی حالت میں سچ بولنا۔

(۳) تنہائی میں پرہیزگاری اختیار کرنا۔

اگر بولنا تجھے بھاتا ہے تو خاموش رہ اور اگر خاموشی تجھے محبوب ہے تو بول۔

اگر بندہ ساری عمر شکر کے سجدہ میں پڑا رہے تو بھی اس کا شکر نہ ادا ہو۔

جب تک بندہ اپنے ناپاک نفس کے گرد فولادی دیوار نہ کھڑی کرے، وہ عبادت کی لذت نہیں چکھ سکتا۔

جو دنیا کی لذتوں کا چاہنے والا ہو، اسے آسمانی مقام کی نعمتوں سے محرومی ہوتی ہے۔

جو شخص اپنی عبادت کی مٹھاس چکھنا چاہتا ہے، اسے اپنے خیالات کو پاک رکھنا چاہیے۔

میں کبھی دنیاوی لوگوں کی محفل میں بیٹھنا پسند نہ کروں اور وہ بھی میری صحبت میں بیٹھنا پسند نہ کرتے۔

بہت سردی کے دن کسی نے بشر حافی کو کپڑے اتار کر کانپتے ہوئے دیکھا اور پوچھا کہ اتنے کم کیوں پہنے ہو؟

آپ نے کہا کہ میں غریبوں اور ان کی حالت کو یاد کرتا ہوں اور میرے پاس کچھ دینے کو نہیں، اس لیے میں نے چاہا کہ ان کی طرح سردی سہوں‘‘

صرف وہی بندے خدا کے منتخب خادم ہوتے ہیں جنہیں عرفانِ الٰہی حاصل ہوتا ہے، یہ بہترین روحیں ہیں جنہیں سوائے خدا کے کوئی نہیں جانتا اور نہ کوئی عزت دیتا ہے۔

خوفِ خدا ایک بادشاہ ہے جو صرف پرہیزگار کے دل میں بستا ہے۔

یقین کی سب سے بڑی منزل صبر کے ساتھ تنگ دستی سہنا ہے جو زندگی بھر اور قبر تک قائم رہے۔

جو خلوصِ نیت سے اس کی عبادت کرتا ہے وہ لوگوں کے خوف سے آزاد رہتا ہے۔

جس انسان کو دنیاوی چیزوں سے لگاؤ ہے وہ جنت کی شاندار چیزوں سے محروم رہے گا۔

خدا نے انسان کو صبر اور معرفت سے بڑھ کر کوئی عظیم عطیہ نہیں دیا۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے