احسان دانش کا تعارف
احسان دانش (1914ء–1982ء) اردو ادب کے ممتاز شاعر، ادیب، لغت نویس، محقق اور ماہرِ لسانیات تھے، جنہیں “شاعرِ مزدور” کے لقب سے شہرت حاصل ہوئی، ان کا اصل نام احسان الحق تھا، آپ اتر پردیش کے قصبہ کندھلہ میں پیدا ہوئے، معاشی مشکلات کے باعث رسمی تعلیم مکمل نہ کر سکے لیکن ذاتی محنت اور شوقِ علم سے عربی، فارسی اور اردو ادب میں گہری دسترس حاصل کی، لاہور میں قیام کے دوران انہوں نے مزدوری، رنگ سازی اور دیگر محنت طلب کام کیے، انہی تجربات نے ان کی شاعری کو عوامی رنگ عطا کیا اور مزدوروں، محروموں اور پسے ہوئے طبقات کے مسائل کو ان کے کلام کا مرکزی موضوع بنایا، ان کی شاعری میں انسانی ہمدردی، سماجی شعور اور حقیقت نگاری نمایاں نظر آتی ہے، احسان دانش ایک کثیرالتصانیف ادیب تھے، ان کی اہم کتابوں میں جہانِ دانش، تشریحِ غالب، اردو مترادفات، دستورِ اردو، حدیثِ ادب اور رموزِ غالب شامل ہیں، ان کی خودنوشت جہانِ دانش کو اردو ادب میں خاص مقام حاصل ہے اور اس پر انہیں آدم جی ادبی انعام سے نوازا گیا، حکومتِ پاکستان نے ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 1978ء میں ستارۂ امتیاز عطا کیا، آپ کا انتقال 22 مارچ 1982ء کو لاہور میں ہوا، شاعری کے ساتھ ساتھ ان کا نعتیہ کلام بھی عشقِ رسول، عقیدت اور روحانی وارفتگی کے باعث خاص اہمیت رکھتا ہے، احسان دانش اردو ادب میں عوامی احساسات کے ترجمان اور محنت کش طبقے کی آواز کے طور پر ہمیشہ یاد کیے جاتے رہیں گے۔