اعجاز رحمانی کا تعارف
تخلص : 'اعجاز'
اصلی نام : اعجاز علی
پیدائش : 12 Feb 1936 | علی گڑھ, اتر پردیش
وفات : 26 Oct 2019 | سندھ, پاکستان
رشتہ داروں : قمر جلالوی (مرشد)
اعجاز رحمانی (1936ء–2019ء) اردو کے ممتاز نعت گو شاعر، ادیب اور صاحبِ فکر شخصیت تھے، جنہوں نے اپنی ادبی زندگی عشقِ رسول، تبلیغِ دین، اصلاحِ معاشرہ اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے وقف کر دی، ان کا اصل نام اعجاز علی رحمانی تھا، آپ 12 فروری 1936ء کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے اور 1954ء میں پاکستان ہجرت کرکے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی، اعجاز رحمانی نے 1955ء میں اپنی پہلی نعت لکھی، جس کے بعد نعت گوئی ان کی ادبی شناخت بن گئی، وہ ایک خوش الحان نعت خواں بھی تھے، ان کے کلام میں عشقِ رسول، روحانی وارفتگی، دینی شعور اور اصلاحی پیغام نہایت مؤثر انداز میں جلوہ گر ہوتا ہے، سادہ، شائستہ اور پُرتاثیر اسلوب ان کی شاعری کا نمایاں وصف ہے، آپ نے نعت، سلام، منقبت اور غزل کے میدان میں متعدد یادگار مجموعے تخلیق کیے، جن میں خوشبو کا سفر، سلامتی کا سفر، اعجازِ مصطفیٰ، چراغِ مدحت اور گل ہائے سلام و منقبت خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، ان کی اہم ترین ادبی کاوش کلیاتِ نعت ہے جو پانچ نعتیہ مجموعوں پر مشتمل ایک وقیع مجموعہ ہے، اعجاز رحمانی نے اپنی شاعری کے ذریعے اسلامی تعلیمات، سیرتِ نبوی اور خلفائے راشدین کے روشن کردار کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا، اردو نعتیہ ادب میں ان کا شمار ان ممتاز شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے خلوص، فکری بالیدگی اور روحانی تاثیر کے ساتھ نعت گوئی کو فروغ دیا، آپ کا انتقال 26 اکتوبر 2019ء کو کراچی میں 83 برس کی عمر میں ہوا۔