غلام رسول مہرؔ کا تعارف
مولانا غلام رسول مہرؔ برصغیر کی ان نابغۂ روزگار شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم و ادب، صحافت، تحقیق اور تاریخ نگاری کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں، اردو ادب میں انہیں ایک بلند پایہ انشا پرداز، ممتاز صحافی، ادیب، شاعر، نقاد، مترجم، مؤرخ اور محقق کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ان کی علمی و ادبی خدمات اردو زبان کا قیمتی سرمایہ ہیں، غلام رسول مہر 15 اپریل 1895ء کو جالندھر کے گاؤں پھول پور میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے اسلامیہ کالج، لاہور سے علمی استفادہ کیا، فراغت کے بعد انہیں حیدرآباد میں ملازمت ملی، جہاں چند برس قیام کرنے کے بعد دوبارہ لاہور آگئے، یہی شہر بعد میں ان کی علمی، ادبی اور صحافتی سرگرمیوں کا مرکز بنا، مہر نے اپنی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے کیا اور برصغیر کے معروف اخبار زمیندار سے وابستہ ہوئے، اپنی بے باک فکر، پختہ اسلوب اور عالمانہ بصیرت کے باعث وہ جلد ہی صحافتی دنیا میں ممتاز مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے، ان کی تحریروں میں فکری گہرائی، تاریخی شعور اور ادبی شائستگی نمایاں نظر آتی ہے۔
مہر نے پوری زندگی تصنیف و تالیف کے لیے وقف کیے رکھی تھی، انہوں نے سیاست، تہذیب و تمدن، تاریخ، سیرت نگاری اور ادب کی مختلف اصناف پر بے شمار مضامین تحریر کیے جو مختلف اخبارات اور رسائل میں شائع ہوتے رہے، ان کی تقریباً سو کے قریب کتابیں منظرِ عام پر آئیں جن میں تبرکاتِ آزاد، فرہنگ غالب، خطوط غالب، مطالب بال جبرئیل، راہ نمائے کتاب داری، شہری معلومات، سیرت امام ان تیمیہ، انبیائے کرام، نقش آزاد، سرگزشت مجاہدین، تاریخِ عالم، 1857 کے مجاہداور سرگزشت مجاہدین خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، سوانح نگاری اور تاریخ نویسی کے میدان میں بھی ان کی خدمات نہایت اہمیت کی حامل ہیں، سید احمد شہید بریلوی کی سوانح حیات ان کا ایک عظیم علمی کارنامہ تصور کی جاتی ہے، اسی طرح تحریکِ مجاہدین کے رفقا کے حالات انہوں نے سرگزشتِ مجاہدین کے عنوان سے قلم بند کیے جو تاریخی اعتبار سے نہایت اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے، انہوں نے اپنی خود نوشت سوانح عمری بھی تحریر کی، جس میں ان کی فکری اور عملی زندگی کے مختلف پہلو نمایاں ہوتے ہیں۔
مہر نے بچوں کے لیے بھی متعدد کتابیں تصنیف اور ترجمہ کیں، جس سے ان کی علمی وسعت اور ادبی تنوع کا اندازہ ہوتا ہے، ان کی تحریریں علم، تحقیق اور فکری دیانت کا حسین امتزاج ہیں، 16 نومبر 1971ء کو یہ عظیم ادیب، محقق اور صحافی اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگیا مگر اپنی گراں قدر علمی و ادبی خدمات کے باعث آج بھی اردو دنیا میں زندہ و تابندہ ہے۔