Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

گوپال نائک

قدیم ہندوستانی موسیقی کے ممتاز گائک، دھرپد کے ابتدائی فنکار اور موسیقار تھے۔

قدیم ہندوستانی موسیقی کے ممتاز گائک، دھرپد کے ابتدائی فنکار اور موسیقار تھے۔

گوپال نائک کا تعارف

گوپال نائک جن کا شمار ہندوستانی موسیقی کی قدیم و ممتاز شخصیات میں ہوتا ہے، بارہویں صدی عیسوی میں پیدا ہوئے، وہ سلطنتِ دیوگری کے فرماں روا رام دیو راؤ کے دربار سے وابستہ ایک نامور گویا تھے اور “چھند پر بند” یعنی دھرپد کے ابتدائی اسلوبِ نغمہ کے نمائندہ فنکاروں میں ان کا نام نہایت وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
روایت ہے کہ سنہ 1297ء میں جب علاؤالدین خلجی نے دیوگری کی سلطنت کو فتح کیا تو اس نے گوپال نائک کے نغمات سننے کی خواہش ظاہر کی، اس خواہش کی تعمیل میں وہ مسلسل چھ روز تک اپنے نغماتِ سحر انگیز سے محفل کو معمور کرتے رہے، اسی موقع پر ایک دلچسپ حکایت بھی منقول ہے کہ علاؤالدین نے اپنے تخت کے نیچے امیر خسرو کو مخفی رکھا تاکہ وہ اس نغمگی کو بغور سن سکے، امیر خسرو نے نہایت توجہ اور باریک بینی سے گوپال نائک کے طرزِ گائیکی کا مشاہدہ کیا، جس کا اثر ان کے فنی شعور پر گہرے نقوش چھوڑ گیا، بعد ازاں جب امیر خسرو اور گوپال نائک کے مابین نغمگی کا مقابلہ پیش آیا تو امیر خسرو نے بعض مقامات پر یہ استدلال پیش کیا کہ گوپال نائک جس راگ کو پیش کر رہے ہیں وہ دراصل اصل و خالص راگ نہیں بلکہ ایک فارسی نغماتی اساس پر قائم ترکیب ہے، اس دعوے کے ساتھ انہوں نے وہی مبینہ فارسی نغمہ خود پیش کیا اور یہ سلسلہ بارہا دہرایا گیا، یہاں تک کہ گوپال نائک نے بالآخر اپنی شکست تسلیم کر لی، تاہم امیر خسرو کی بصیرت اس امر کی شاہد تھی کہ گوپال نائک کی فنی عظمت مسلم ہے، اسی لیے انہوں نے نہ صرف ان کو بلکہ دیگر اہلِ موسیقی کو بھی دہلی کی دربارگاہ میں منتقل کیا، جس کے نتیجے میں دیوگری کی موسیقی شمالی ہند تک پہنچی اور وہاں کے نغماتی نظام میں پیوست ہو گئی۔
تیرہویں صدی کے معروف آیوروید و موسیقی داں شاردگدیو کی تصنیف “سنگیت رتناکر” پر جب “چتُر کلّیناتھ” نے شرح لکھی تو اس میں “تال ویاکھیا” کے ضمن میں گوپال نائک کا ذکر نہایت احترام کے ساتھ کیا گیا، وہ صرف گویا ہی نہیں بلکہ پکھاوج کے ماہر فنکار بھی تھے اور روایت کے مطابق انہوں نے “دیوگری بلّاول” نامی راگ کی تشکیل بھی کی، یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گوپال نائک کے طرزِ نغمہ کی ایک فنی روایت آگے چل کر “کرانہ گھرانہ” کے نام سے معروف ہوئی، جسے بعد میں اس گھرانے کی پانچویں پشت کے ممتاز گویے استاد عبد الکریم خان نے عروج و شہرت عطا کی، ایک اور دلکش روایت یہ بھی منقول ہے کہ جب گوپال نائک بیل گاڑی میں سفر فرمایا کرتے تھے تو بیلوں کی گردنوں میں مختلف اوقات کے راگوں کی علامتی گھنٹیاں باندھ دیتے تھے، یوں جب گاڑی رواں دواں ہوتی تو اس کی جھنکار سے فضا میں گویا مخصوص راگوں کی صدا بکھر جاتی اور سفر خود ایک نغمگی کا پیکر بن جاتا تھا۔

موضوعات

Recitation

بولیے