Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

حنیف اخگر

1928 - 2009 | ریاستہائے متحدہ امریکہ

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ معاشیات تھے، شریف اثرؔ کے فرزند، اقوامِ متحدہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور "چراغاں"، "خیاباں" اور نعتیہ مجموعہ "خلقِ مجسم" ان کی نمایاں ادبی یادگاریں ہیں۔

اردو کے ممتاز شاعر، ادیب اور ماہرِ معاشیات تھے، شریف اثرؔ کے فرزند، اقوامِ متحدہ میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے اور "چراغاں"، "خیاباں" اور نعتیہ مجموعہ "خلقِ مجسم" ان کی نمایاں ادبی یادگاریں ہیں۔

حنیف اخگر کا تعارف

تخلص : 'اخگر'

اصلی نام : محمد حنیف

پیدائش : 30 Sep 1928 | ملیح آباد, اتر پردیش

وفات : 31 May 2009 | ریاستہائے متحدہ امریکہ

حنیف اخگر کا اصل نام محمد حنیف ہے، آپ اردو کے ان ممتاز شعرا و ادبا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت اور جدید شعری حسیت کو ایک ساتھ برتا، آپ کا تخلص اخگر تھا، 2 ستمبر 1928ء کو ملیح آباد، لکھنؤ کے ایک علمی و دینی گھرانے میں ولادت ہوئی، ابتدائی تعلیم اپنے وطن ملیح آباد ہی کے مدارس اور خاندانی علمی ماحول میں اردو، فارسی اور عربی کی مروجہ روایت کے مطابق حاصل کی، تقسیمِ ہند کے بعد آپ نے پاکستان ہجرت کی، بعد ازاں منشی فاضل کی تعلیم سلیمانیہ کالج، بھوپال سے مکمل کی، جبکہ 1948ء میں امیرالدولہ اسلامیہ کالج سے میٹرک کا امتحان نمایاں کامیابی کے ساتھ فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا۔
حنیف اخگر کی ادبی تربیت ایک نہایت خوش قسمت فکری ماحول میں ہوئی، آپ کے والد شریف اثرؔ اپنے دور کے معروف شاعر تھے، جن کے زیرِ سایہ آپ کے اندر شعری ذوق، لفظی حسن اور فکری نغمگی کی پرورش ہوئی، عملی زندگی میں آپ نے متنوع اور بین الاقوامی تجربات حاصل کیے، ابتدا میں کراچی میں بینک کی ملازمت اختیار کی اور ساتھ ہی کراچی یونیورسٹی سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی، بعد ازاں آپ سعودی عرب اور پھر امریکہ منتقل ہوئے، جہاں اقوامِ متحدہ کے بین الاقوامی سول سروس میں تقریباً سترہ برس تک مختلف ذمہ داریاں انجام دیں، آپ نے یو این کیپیٹل ڈیولپمنٹ فنڈ میں ڈویژن چیف (ایشیا پیسیفک، امریکا و عرب اسٹیٹس ڈویژن) کے طور پر بھی خدمات انجام دیں اور 2 مئی 1989ء کو ریٹائر ہوئے، بعد ازاں بھی آپ بین الاقوامی اداروں میں بطور کنسلٹنٹ و ماہر خدمات انجام دیتے رہے، ادبی اعتبار سے حنیف اخگر نے اردو شاعری کو نئے امکانات سے روشناس کیا، آپ کے تین اہم شعری مجموعے “چراغاں” (1989ء)، “خیاباں” (1997ء) اور نعتیہ کلام پر مشتمل “خلقِ مجسم” (2003ء) شائع ہوئے، اس کے علاوہ آپ کی خود نوشت “اعتراف و انکشاف” آپ کے فکری و تجرباتی سفر کی نہایت اہم دستاویز ہے، آپ نے معاشی و اقتصادی موضوعات پر بھی قلم اٹھایا اور “اسٹاک مارکیٹ ان پاکستان” جیسی تصنیف پیش کی، ادبی خدمات کے اعتراف میں آپ کو عالمی اردو کانفرنس، نئی دہلی کی جانب سے عالمی اردو ایوارڈ اور خواجہ میر درد ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، اس کے ساتھ آپ نے اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے “حلقۂ فن و ادب شمالی امریکا” کی بنیاد رکھی جو بیرونِ ملک اردو تہذیب و ادب کے فروغ میں ایک اہم ادارہ ثابت ہوا، 31 مئی 2009ء کو ڈیلاس، ٹیکساس میں آپ کا انتقال ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے