Font by Mehr Nastaliq Web
Haneef Nazish Qadri's Photo'

حنیف نازش قادری

1935 - 2022 | गुजरांवाला, پاکستان

پاکستان کے ممتاز نعت گو شاعر، حفیظ تائب کے شاگرد اور سلسلۂ قادریہ سے وابستہ تھے، ان کی مشہور نعت "زائرِ کوئے جناں آہستہ چل" اور مجموعۂ نعت "سخن سخن خوشبو" انہیں اردو نعتیہ ادب میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

پاکستان کے ممتاز نعت گو شاعر، حفیظ تائب کے شاگرد اور سلسلۂ قادریہ سے وابستہ تھے، ان کی مشہور نعت "زائرِ کوئے جناں آہستہ چل" اور مجموعۂ نعت "سخن سخن خوشبو" انہیں اردو نعتیہ ادب میں نمایاں مقام حاصل ہے۔

حنیف نازش قادری کا تعارف

تخلص : 'نازش'

اصلی نام : محمد حنیف

پیدائش :امرتسر, پنجاب

وفات : 16 Sep 2022 | اسلام آباد, پاکستان

رشتہ داروں : حفیط تائبؔ (مرشد)

محمد حنیف نازش قادری پاکستان کے معروف نعت گو شاعر تھے، جنہوں نے نعتیہ ادب میں اپنی منفرد شناخت قائم کی، ان کا اصل نام محمد حنیف تھا جبکہ ادبی دنیا میں وہ اپنے تخلص نازش کے ساتھ معروف ہوئے، آپ سلسلۂ قادریہ سے وابستگی رکھتے تھے، جس کے روحانی اثرات ان کی شاعری اور فکری مزاج میں نمایاں طور پر جھلکتے ہیں۔
آپ 1935ء میں امرتسر کے قصبہ اجنالہ کے گاؤں گگومال میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام شیخ رحمت اللہ اور والدہ کا نام سائرہ بی بی تھا، تقسیمِ ہند کے بعد آپ اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان ہجرت کر گئے اور اس وقت آپ کی عمر تقریباً بارہ برس تھی، ہجرت کے بعد آپ نے گوجرانوالہ کے علاقے کامونکی میں سکونت اختیار کی، جہاں آپ عملی زندگی کے ابتدائی مراحل سے وابستہ ہوئے۔
ابتدائی اور عملی زندگی میں آپ کا ذریعۂ معاش چاولوں کی تجارت رہا، بعد ازاں عمر کے آخری حصے میں آپ اسلام آباد منتقل ہوگئے، روحانی اعتبار سے آپ نے جدہ میں الشیخ السید عبدالمعبود الجیلانی المدنی القادری کے دستِ حق پر بیعت کی جو سلسلۂ قادریہ کی ایک اہم روحانی نسبت کے حامل بزرگ تھے، آپ کی شاعری کا آغاز نسبتاً دیر سے ہوا، تقریباً پچاس برس کی عمر میں جب آپ شدید علالت کا شکار ہوئے اور جسمانی طور پر کمزور ہوگئے تو اسی کیفیت میں ان کے اندر کا شاعر بیدار ہوا، ابتدا میں انہوں نے غزل اور مزاحیہ شاعری بھی کی لیکن رفتہ رفتہ ان کا رجحان مکمل طور پر نعت گوئی کی طرف مائل ہوگیا، اس میدان میں انہیں معروف نعت گو شاعر حفیظ تائب سے اصلاح و رہنمائی حاصل رہی، جس کا سلسلہ ان کی وفات تک جاری رہا، ان کی نعتیہ شاعری میں سادگی، عقیدت اور روحانی وارفتگی کے ساتھ ساتھ اعلیٰ مذہبی شعور بھی نمایاں ہے، ان کے ہاں احمد رضا خاں بریلوی کے فکری اثرات اور شریعت کی پابندی کا واضح عکس ملتا ہے، جس نے ان کے کلام کو ایک باوقار اور سنجیدہ دینی رنگ عطا کیا، ان کی مشہور نعت ’’زائرِ کوئے جناں آہستہ چل‘‘ کو متعدد نامور نعت خواں حضرات نے اپنی آواز کا حصہ بنایا، جس نے ان کے کلام کو مزید شہرت بخشی، ان کے نعتیہ مجموعوں میں ’’سخن سخن خوشبو‘‘ (1996ء)، ’’آبرو‘‘ (2003ء)، پنجابی مجموعہ ’’حدوں ودھ درود نبی تے‘‘ (2007ء)، ’’نیاز‘‘ (2014ء)، ’’نعت ہوتی رہے‘‘ (2017ء)، ’’نعت ہوئی‘‘ (2019ء) اور ’’نعت کہتے رہے‘‘ (2022ء) شامل ہیں، آپ 16 ستمبر 2022ء کو اسلام آباد میں وفات پا گئے، آپ کی نمازِ جنازہ اسی روز شام پانچ بجے ایچ-11 قبرستان اسلام آباد میں ادا کی گئی اور آپ اپنے تخلیقی و روحانی ورثے کے ساتھ ہمیشہ کے لیے یادگار بن گئے۔

موضوعات

Recitation

بولیے