حضرت علی کے صوفی اقوال
اگر کوئی غلط کام کر کے تم شیطان ہوتے تو خدا کے نزدیک یہ غلطی اس نیکی سے بہتر ہے جو تم میں غرور پیدا کر دے۔
بہادر وہ نہیں جو شیر کو مار ڈالے بلکہ بہادر وہ ہے جس نے خواہشِ نفس کو مار ڈالا۔
حسد کے ساتھ راحت نہیں، انتقام کے ساتھ سرداری نہیں، بے ادبی کے ساتھ بزرگی نہیں، نافرمانی کے ساتھ فلاح نہیں۔
صبر کا مرتبہ ایمان سے وہ ہے جو سر کو تمام جسم سے پس جیسے سر جانے سے جسم بے جان و بے کار ہو جاتا ہے، علیٰ ھذا القیاس اگر صبر نہ رہا تو ایمان بھی نہ رہے گا۔
کسی عالم کو خدا نے علم نہیں دیا مگر اس سے ایک عہد لے لیا کہ وہ علم کسی سے چھپائے گا نہیں اور یہ بھی فرمایا کہ خدا نے جاہلوں کو پابند نہیں کیا کہ وہ علم حاصل کریں مگر علما کوپابند کیا ہے کہ وہ علم سکھائیں۔
تیرا مال وہی ہے جو تو نے راہِ حق میں خرچ کیا اور مستحقوں کو دے کر آگے بھیجا۔
دولت مندوں کے ہزاروں دشمن ہوتے ہیں لیکن علم والے کی عزت بڑھتی ہے اور وہ عالم کہلاتا ہے، دولت فرعون کا ترکہ ہے اور علم پیغمبروں کی میراث ہے۔
بخیل دنیا میں زندگی فقیروں جیسی گزارتا ہے لیکن عاقبت میں حساب امیروں جیسا ہوگا۔
اپنے قلب کو نصیحت سے توانائی دو، حکمت سے منور کرو اور لوگوں سے بے نیاز ہو کر اسے قوت پہنچاؤ۔
خدا سے صلح رکھ تا کہ عاقبت سلامت رہے، لوگوں سے صلح رکھ تا کہ دنیا برباد نہ ہو۔
کسی جاہل کو اس سے شرم نہیں آتی کہ اس سے ایسی چیزیں پوچھی جائیں جن کو وہ نہیں جانتا اور عالم کو اس سے شرم نہیں آتی کہ جب اس سے ایسی بات پوچھی جائے جس کو وہ نہیں جانتا تو کہہ دے اللہ بہتر جانتا ہے۔
آدمی تین قسم کے ہیں۔
(۱) عالم ربانی (۲) نجات کے خیال سے طلب علم کرنے والے (۳) باقی لوگ ہر آواز پر دوڑ پڑنے والے اجڈ گنوار ہیں۔
علم حاصل کرو مگر عقل و وقار کے زیور سے بھی آراستہ رہو، استادوں اور شاگردوں کے ساتھ خاکسار رہو۔
سب سے کھٹن کام تین ہیں۔
(۱)اپنے نفس سے حق دلوانا (۲) ہر حال میں خدا کو یاد کرنا (۳) مال سے بھائی کی غمخواری کرنا۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere