حضرت علی کے صوفی اقوال
حسد کے ساتھ راحت نہیں، انتقام کے ساتھ سرداری نہیں، بے ادبی کے ساتھ بزرگی نہیں، نافرمانی کے ساتھ فلاح نہیں۔
بہادر وہ نہیں جو شیر کو مار ڈالے بلکہ بہادر وہ ہے جس نے خواہشِ نفس کو مار ڈالا۔
اگر کوئی غلط کام کر کے تم شیطان ہوتے تو خدا کے نزدیک یہ غلطی اس نیکی سے بہتر ہے جو تم میں غرور پیدا کر دے۔
وہ گناہ جو تجھے دکھی کر دے اور تیرے دل میں پچھتاوا پیدا کر دے وہ خدا کو اس نیکی سے زیادہ پسند ہے جو تجھے غمند اور مغرور بنا دے۔
اپنے رفیقوں میں ایک درہم خرچ کرنا دس درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے، اگر دس درہم رفیقوں میں خرچ کیے جائیں تو وہ سو درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہیں اور اگر رفیقوں میں سو درہم خرچ کیے تو گویا اس نے غلام آزاد کیا۔
علم دولت سے بہتر ہے، تم دولت کی حفاظت کرتے ہو اور علم تمہاری حفاظت کرتا ہے، علم حاکم دولت محکوم، دولت خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے اور علم بڑھتا ہے۔
انار کو اس پتلی جھلی کے ساتھ کھاؤ جو دانوں کے ساتھ نکلتی ہے کیوں کہ وہ معدہ کو پکا دیتی ہے۔
سب سے مل جل کر رہو، جیسے شہد کی مکھی اپنے چھتے میں رہتی ہے، لوگوں کے ساتھ اپنے جسم اور زبان سے ملے رہو اور اپنے اعمال اور قلوب سے علیٰحدہ ہو، قیامت کے دن آدمی کو اسی کا بدلہ ملے گا جو کمائے گا اور وہ قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔
سخاوت یہ ہے کہ قبل سوال کے ہو اور جو مانگنے پر ہو وہ سخاوت نہیں بلکہ حیا و کرم ہے۔
علم وہ خزانہ ہے جس کا ذخیرہ بڑھتا ہی رہتا ہے، اسے گردشِ ایام سے ضرر نہیں پہنچتا۔
سچائی میں تو خوف و خطرہ ہے لیکن وہ باعثِ نجات ہے، جھوٹ میں تو بظاہر عافیت نظر آئے گی لیکن وہ موجبِ ہلاکت ہے۔
علم کمینہ کو بلند مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے اور جہل مرد عالی قدر کو پست مرتبہ کر دیتا ہے۔
گناہوں پر نادم ہونا ان کو مٹاتا ہے لیکن نیکیوں پر غرور یا فخر کرنا انہیں برباد کرتا ہے۔
مجھے جنت سے زیادہ مسجد میں بیٹھنا اچھا لگتا ہے کیوں کہ جنت میں میرا نفس خوش ہوگا جب کہ مسجد میں میرا رب خوش ہوگا۔
تم کو جو کچھ دنیا میں سے ملے اس پر بہت خوش نہ ہو اور اگر تم کو کچھ نہ ملے اس سے مایوس ہو کر غم نہ کرو اور اپنی ہمت کو موت کے بعد کے معاملات میں مصروف رکھو۔
جو شخص کسی کے احسان کا شکر گزار نہیں ہوتا، آخر اس کے احسان سے محروم ہو جاتا ہے۔
تو بیٹا چاہے جس کا ہو پر ادب سیکھ، عمدہ ادب نسب سے پرواہ کر دے گا یعنی بے شک جوان وہ ہے جو یہ کہے کہ میں یہ ہوں، وہ جوان نہیں ہے جو یہ کہے کہ میرا باپ ایسا تھا۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere