Font by Mehr Nastaliq Web
Hazrat Ali's Photo'

حضرت علی

599 - 666 | مدینہ, سعودیہ عربیہ

حضرت محمد رسول اللہ کے چچا زاد بھائی، داماد اور خلفائے راشدین کے چوتھے خلیفہ تھے، آپ کی ولادت خانۂ کعبہ میں ہوئی، اسلام قبول کرنے والوں میں اولین افراد میں شامل تھے اور علم، شجاعت، عدل اور حکمت کے باعث شیرِ خدا اور مرتضیٰ کے القابات سے مشہور ہوئے، آپ 40 ہجری میں کوفہ میں شہید ہوئے اور نجف میں مدفون ہیں۔

حضرت محمد رسول اللہ کے چچا زاد بھائی، داماد اور خلفائے راشدین کے چوتھے خلیفہ تھے، آپ کی ولادت خانۂ کعبہ میں ہوئی، اسلام قبول کرنے والوں میں اولین افراد میں شامل تھے اور علم، شجاعت، عدل اور حکمت کے باعث شیرِ خدا اور مرتضیٰ کے القابات سے مشہور ہوئے، آپ 40 ہجری میں کوفہ میں شہید ہوئے اور نجف میں مدفون ہیں۔

حضرت علی کے صوفی اقوال

109
Favorite

باعتبار

جس مصیبت کا انجام اچھا ہو وہ اس خوشی سے بہتر جس کا انجام برا ہو۔

اگر کوئی غلط کام کر کے تم شیطان ہوتے تو خدا کے نزدیک یہ غلطی اس نیکی سے بہتر ہے جو تم میں غرور پیدا کر دے۔

بہادر وہ نہیں جو شیر کو مار ڈالے بلکہ بہادر وہ ہے جس نے خواہشِ نفس کو مار ڈالا۔

ہر شخص کی قیمت وہی ہے جو اس میں خوبی پیدا کر دے۔

سخاوت یہ ہے کہ بے مانگے دیا جائے، سوال پر جو دیا جائے وہ بخشش ہے۔

حسد کے ساتھ راحت نہیں، انتقام کے ساتھ سرداری نہیں، بے ادبی کے ساتھ بزرگی نہیں، نافرمانی کے ساتھ فلاح نہیں۔

ہر شے کی زکوۃ ہے اور عقل کی زکوۃ نادانوں کی باتوں پر صبر کرنا ہے۔

حکمت ایک درخت ہے جو دل میں اگتا ہے دماغ میں پلتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔

قبول عمل میں سخت اہتمام کیا کرو کیوں کہ عمل بغیر تقویٰ قبول نہیں ہوتا۔

جہل سے زیادہ معالج کو عاجز کرنے والا کوئی مرض نہیں۔

کسی عالم کو خدا نے علم نہیں دیا مگر اس سے ایک عہد لے لیا کہ وہ علم کسی سے چھپائے گا نہیں اور یہ بھی فرمایا کہ خدا نے جاہلوں کو پابند نہیں کیا کہ وہ علم حاصل کریں مگر علما کوپابند کیا ہے کہ وہ علم سکھائیں۔

غم اور مصیبت کو صبر سے برداشت کرو ورنہ کبھی سکون حاصل نہیں ہوگا۔

جو شخص تجربہ سے سبق نہیں لیتا بالآخر اس کے سوچنے کی قوت زائل ہو جاتی ہے۔

فقر سب سے بڑی دولت ہے۔

جہاں تمہاری عزت کا عزت کا لحاظ نہ ہوتا ہو وہاں ہرگز نہ جاؤ۔

پرہیز گاری سے بڑھ کر کوئی عزت نہیں۔

بخل سب عیبوں کو جمع کر لیتا ہے۔

معاف کر دینا دشمن پر فتح حاصل کر لینا ہے۔

انسان کے لیے کتنا برا ہے کہ اس کا باطن بیمار اور ظاہر حسین رہے۔

صبر کا مرتبہ ایمان سے وہ ہے جو سر کو تمام جسم سے پس جیسے سر جانے سے جسم بے جان و بے کار ہو جاتا ہے، علیٰ ھذا القیاس اگر صبر نہ رہا تو ایمان بھی نہ رہے گا۔

سب سے بڑی دولت عقل ہے اور سب سے بڑی مفلسی بے وقوفی ہے۔

انسان کے لیے کتنا برا ہے کہ باطن بیمار اور ظاہر حسین ہو۔

کفایت شعار کبھی غریب نہیں ہوتا۔

آزادی کی حفاظت نہ کرنے والا غلامی میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

تقویٰ سے بڑھ کر کوئی کرامت نہیں۔

علم حاکم اور مال محکوم ہے۔

بخیل دنیا میں زندگی فقیروں جیسی گزارتا ہے لیکن عاقبت میں حساب امیروں جیسا ہوگا۔

لوگ اپنے زمانے سے بہت مشابہ ہیں اس قدر اپنے باپوں سے مشابہ نہیں۔

اپنے قلب کو نصیحت سے توانائی دو، حکمت سے منور کرو اور لوگوں سے بے نیاز ہو کر اسے قوت پہنچاؤ۔

جو شخص اپنے جسم پر غلبہ پاسکتا ہے اس کا جسم ہی اس کی قبر بن جاتا ہے۔

تیرا مال وہی ہے جو تو نے راہِ حق میں خرچ کیا اور مستحقوں کو دے کر آگے بھیجا۔

قناعت وہ سرمایہ ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

خاموشی عالم کا زیور ہے اور جاہل کی جہالت کا پردہ۔

جس کو علم نہیں وہ علم سیکھنے میں شرم نہ کرے۔

جو شخص اپنی زبان کو محفوظ رکھے گا وہ اپنی آبرو اور عزت کو بچائے گا۔

دولت مندوں کے ہزاروں دشمن ہوتے ہیں لیکن علم والے کی عزت بڑھتی ہے اور وہ عالم کہلاتا ہے، دولت فرعون کا ترکہ ہے اور علم پیغمبروں کی میراث ہے۔

خدا سے صلح رکھ تا کہ عاقبت سلامت رہے، لوگوں سے صلح رکھ تا کہ دنیا برباد نہ ہو۔

بات پر نظر کرو کہ کیسی کہی کہنے والے کو نہ دیکھو۔

کسی جاہل کو اس سے شرم نہیں آتی کہ اس سے ایسی چیزیں پوچھی جائیں جن کو وہ نہیں جانتا اور عالم کو اس سے شرم نہیں آتی کہ جب اس سے ایسی بات پوچھی جائے جس کو وہ نہیں جانتا تو کہہ دے اللہ بہتر جانتا ہے۔

جس نے اپنی قدر و منزلت پہچان لی کبھی برباد نہ ہوگا۔

رشتہ داری اور قرابت کو حسنِ سلوک سے زیادہ کرتے ہیں۔

جو شخص مال دینے میں بخیل ہو وہ عزت دینے میں سخی ہوتا ہے۔

جس نے باطل کی تائید کی اس نے حق پر ظلم کیا۔

علم حاصل کرو مگر عقل و وقار کے زیور سے بھی آراستہ رہو، استادوں اور شاگردوں کے ساتھ خاکسار رہو۔

سب سے کھٹن کام تین ہیں۔

(۱)اپنے نفس سے حق دلوانا (۲) ہر حال میں خدا کو یاد کرنا (۳) مال سے بھائی کی غمخواری کرنا۔

بے صبری سے تقدیرِ الٰہی تو ٹلتی نہیں اجر و ثواب البتہ ضائع ہوتا ہے۔

راضی ہوئے ہم جبار کی تقسیم پر ہمارے لیے علم ہے یعنی علم سینے میں مثلِ آفتاب کے ہے جو آسمان پر درخشاں ہے اور عقل مثل بادشاہوں کے تاج کے ہے کہ کوئی باشاہ بے تاج نہیں ہوتا۔

بندہ کو واجب ہے کہ اپنے پروردگار سے امید رکھے اور اپنے گناہوں سے ڈرتا رہے۔

اگر اپنے دشمن پر قابو پاؤ تو اس کے شکریہ میں اسے معاف کر دو۔

پاکیزگی دنیا کی خواہشات پر لات مارنے سے ہوتی ہے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے