حضرت علی کے صوفی اقوال
شریف سے اس وقت ڈرو جب وہ مظلوم ہو اور کمینہ سے اس وقت ڈرو جب وہ اقتدار میں ہو۔
میں اس شخص کی تعریف کرتا ہوں جو تیرے لیے سخت گیر ہے کہ تجھے بری باتوں سے بچائے، برعکس اس شخص کے جو تیری اصلاح کرنا چاہتا ہے مگر تیری خوشامد بھی کرتا ہے۔
سچائی میں تو خوف و خطرہ ہے لیکن وہ باعثِ نجات ہے، جھوٹ میں تو بظاہر عافیت نظر آئے گی لیکن وہ موجبِ ہلاکت ہے۔
اگر کوئی غلط کام کر کے تم شیطان ہوتے تو خدا کے نزدیک یہ غلطی اس نیکی سے بہتر ہے جو تم میں غرور پیدا کر دے۔
علم دولت سے بہتر ہے، تم دولت کی حفاظت کرتے ہو اور علم تمہاری حفاظت کرتا ہے، علم حاکم دولت محکوم، دولت خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے اور علم بڑھتا ہے۔
لوگ بیماری کے خوف سے غذا پہلے چھوڑ دیتے ہیں لیکن عذابِ الٰہی کے خوف سے گناہ نہیں چھوڑتے۔
اپنے قلب کو نصیحت سے توانائی دو، حکمت سے منور کرو اور لوگوں سے بے نیاز ہو کر اسے قوت پہنچاؤ۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere