Font by Mehr Nastaliq Web
Hazrat Ali's Photo'

حضرت علی

599 - 666 | مدینہ, سعودیہ عربیہ

تصوف اور روحانیت کے عظیم پیشوا اور حضرت رسول اللہ کے خویش محترم

تصوف اور روحانیت کے عظیم پیشوا اور حضرت رسول اللہ کے خویش محترم

حضرت علی کے صوفی اقوال

13
Favorite

باعتبار

سخاوت یہ ہے کہ بے مانگے دیا جائے، سوال پر جو دیا جائے وہ بخشش ہے۔

حسد کے ساتھ راحت نہیں، انتقام کے ساتھ سرداری نہیں، بے ادبی کے ساتھ بزرگی نہیں، نافرمانی کے ساتھ فلاح نہیں۔

ہر شخص کی قیمت وہی ہے جو اس میں خوبی پیدا کر دے۔

بہادر وہ نہیں جو شیر کو مار ڈالے بلکہ بہادر وہ ہے جس نے خواہشِ نفس کو مار ڈالا۔

جس مصیبت کا انجام اچھا ہو وہ اس خوشی سے بہتر جس کا انجام برا ہو۔

اگر کوئی غلط کام کر کے تم شیطان ہوتے تو خدا کے نزدیک یہ غلطی اس نیکی سے بہتر ہے جو تم میں غرور پیدا کر دے۔

وہ گناہ جو تجھے دکھی کر دے اور تیرے دل میں پچھتاوا پیدا کر دے وہ خدا کو اس نیکی سے زیادہ پسند ہے جو تجھے غمند اور مغرور بنا دے۔

سب سے بڑی خیانت قوم کے ساتھ غداری ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی غریبی بے عقلی ہے۔

اپنے رفیقوں میں ایک درہم خرچ کرنا دس درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہے، اگر دس درہم رفیقوں میں خرچ کیے جائیں تو وہ سو درہم صدقہ کرنے سے بہتر ہیں اور اگر رفیقوں میں سو درہم خرچ کیے تو گویا اس نے غلام آزاد کیا۔

مصیبت پر گھبرا جانا پوری محنت اٹھانا ہے۔

علم دولت سے بہتر ہے، تم دولت کی حفاظت کرتے ہو اور علم تمہاری حفاظت کرتا ہے، علم حاکم دولت محکوم، دولت خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے اور علم بڑھتا ہے۔

حسد کے ساتھ راحت نہیں۔

انار کو اس پتلی جھلی کے ساتھ کھاؤ جو دانوں کے ساتھ نکلتی ہے کیوں کہ وہ معدہ کو پکا دیتی ہے۔

سب سے مل جل کر رہو، جیسے شہد کی مکھی اپنے چھتے میں رہتی ہے، لوگوں کے ساتھ اپنے جسم اور زبان سے ملے رہو اور اپنے اعمال اور قلوب سے علیٰحدہ ہو، قیامت کے دن آدمی کو اسی کا بدلہ ملے گا جو کمائے گا اور وہ قیامت کے دن اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت رکھتا ہے۔

پاکیزگی دنیا کی خواہشات پر لات مارنے سے ہوتی ہے۔

سخاوت یہ ہے کہ قبل سوال کے ہو اور جو مانگنے پر ہو وہ سخاوت نہیں بلکہ حیا و کرم ہے۔

عقل بڑی دولت و مالداری ہے۔

اس دنیا کے لوگ ایسے مسافر ہیں جو نیند میں سفر کر رہے ہیں۔

جس کو کسی سوال کا جواب نہیں آتا ’’واللہ اعلم‘‘ کہنے سے نہ شرماوے۔

غصہ پی جایا کر، میں نے اس سے میٹھا کوئی جام نہیں دیکھا۔

علم وہ خزانہ ہے جس کا ذخیرہ بڑھتا ہی رہتا ہے، اسے گردشِ ایام سے ضرر نہیں پہنچتا۔

بھلائی کی خواہش، برائی کی خواہش کو دبا دیتی ہے۔

شریف عروج پا کر نرم ہو جاتا ہے، کمینے کا معاملہ اس کے بر عکس ہوتا ہے۔

قناعت سب سے بڑی دولت ہے۔

نیکی سے مرد آزاد غلام ہو جاتا ہے۔

سچائی میں تو خوف و خطرہ ہے لیکن وہ باعثِ نجات ہے، جھوٹ میں تو بظاہر عافیت نظر آئے گی لیکن وہ موجبِ ہلاکت ہے۔

پاکیزگی وہ دولتِ خواہشات پر لات مارنے سے ہوتی ہے۔

عالم وہی ہے جس کا اپنے علم پر عمل ہو۔

کھانے کی حرص اور بد ہضمی ہو تو صحت کہاں۔

قناعت ایسا خزانہ ہے جو خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔

تقدیر کے آگے تدبیر نہیں چلتی۔

اصل عقلمندی خواہشوں سے جنگ کرنا ہے۔

جس کی زبان شیریں اُس کے بھائی بہت۔

علم کمینہ کو بلند مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے اور جہل مرد عالی قدر کو پست مرتبہ کر دیتا ہے۔

عقل کامل ہو جائے تو گفتگو گھٹ جاتی ہے۔

صوفی وہ ہے جس کا کردار اس کی گفتار کے مطابق ہو۔

گناہوں پر نادم ہونا ان کو مٹاتا ہے لیکن نیکیوں پر غرور یا فخر کرنا انہیں برباد کرتا ہے۔

گناہ سے انکار، دوسرا گناہ ہے۔

مجھے جنت سے زیادہ مسجد میں بیٹھنا اچھا لگتا ہے کیوں کہ جنت میں میرا نفس خوش ہوگا جب کہ مسجد میں میرا رب خوش ہوگا۔

سب سے بڑی خیانت قوم سے غداری ہے۔

تم کو جو کچھ دنیا میں سے ملے اس پر بہت خوش نہ ہو اور اگر تم کو کچھ نہ ملے اس سے مایوس ہو کر غم نہ کرو اور اپنی ہمت کو موت کے بعد کے معاملات میں مصروف رکھو۔

آزادی کی حفاظت نہ کرنے والا غلامی میں گرفتار ہوجاتا ہے۔

گمرائی اور سر کشی کے ساتھ فتح نہیں ہوتی۔

جو شخص کسی کے احسان کا شکر گزار نہیں ہوتا، آخر اس کے احسان سے محروم ہو جاتا ہے۔

لوگ خوابِ غفلت میں پڑے سو رہے ہیں جب مرتے ہیں تو ہوشیار خبردار ہوتے ہیں۔

دنیا کی سب سے بڑی غریبی بے عقلی ہے۔

صبر کی نسبت بے صبری میں زیادہ تعب و مشقت ہے۔

تو بیٹا چاہے جس کا ہو پر ادب سیکھ، عمدہ ادب نسب سے پرواہ کر دے گا یعنی بے شک جوان وہ ہے جو یہ کہے کہ میں یہ ہوں، وہ جوان نہیں ہے جو یہ کہے کہ میرا باپ ایسا تھا۔

جہالت اور بے عملی سب سے بڑی برائیاں ہیں۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے