Font by Mehr Nastaliq Web
Hazrat Ali's Photo'

حضرت علی

599 - 666 | مدینہ, سعودیہ عربیہ

تصوف اور روحانیت کے عظیم پیشوا اور حضرت رسول اللہ کے خویش محترم

تصوف اور روحانیت کے عظیم پیشوا اور حضرت رسول اللہ کے خویش محترم

حضرت علی کے صوفی اقوال

5
Favorite

باعتبار

واضح اور روشن ترین راستہ حق و صداقت کا راستہ ہے۔

لالچ دائمی غلامی ہے۔

بہانہ جھوٹ سے بھی بدتر اور بھیانک ہے۔

جو شخص تجربوں سے سبق نہیں لیتا بالآخر اس کی سوچنے کی قوت زائل ہو جاتی ہے۔

فرصت کو کھونا بہت مصیبت ہے۔

شریف سے اس وقت ڈرو جب وہ مظلوم ہو اور کمینہ سے اس وقت ڈرو جب وہ اقتدار میں ہو۔

جب لوگوں کی نیتیں فاسد ہو جاتی ہیں، تو دنیا سرے برکتیں اٹھ جاتی ہیں۔

فکر آدھا بڑھاپا ہے۔

جس نے باطل کی تائید کی گویا اس نے حق پر ظلم کیا۔

میں اس شخص کی تعریف کرتا ہوں جو تیرے لیے سخت گیر ہے کہ تجھے بری باتوں سے بچائے، برعکس اس شخص کے جو تیری اصلاح کرنا چاہتا ہے مگر تیری خوشامد بھی کرتا ہے۔

دین خزانہ ہے اور علم اس کا راستہ ہے۔

جس مصیبت کا انجام اچھا ہو وہ اس خوشی سے بہتر جس کا انجام برا ہو۔

عقل کامل ہو جائے تو گفتگو گھٹ جاتی ہے۔

گناہ سے انکار، دوسرا گناہ ہے۔

سب سے بڑی خیانت قوم سے غداری ہے۔

آزادی کی حفاظت نہ کرنے والا غلامی میں گرفتار ہوجاتا ہے۔

بھلائی کی خواہش، برائی کی خواہش کو دبا دیتی ہے۔

شریف عروج پا کر نرم ہو جاتا ہے، کمینے کا معاملہ اس کے بر عکس ہوتا ہے۔

قناعت سب سے بڑی دولت ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی غریبی بے عقلی ہے۔

جہالت اور بے عملی سب سے بڑی برائیاں ہیں۔

سچائی میں تو خوف و خطرہ ہے لیکن وہ باعثِ نجات ہے، جھوٹ میں تو بظاہر عافیت نظر آئے گی لیکن وہ موجبِ ہلاکت ہے۔

پاکیزگی وہ دولتِ خواہشات پر لات مارنے سے ہوتی ہے۔

عالم وہی ہے جس کا اپنے علم پر عمل ہو۔

قناعت ایسا خزانہ ہے جو خرچ کرنے سے کم نہیں ہوتا۔

اصل عقلمندی خواہشوں سے جنگ کرنا ہے۔

اگر کوئی غلط کام کر کے تم شیطان ہوتے تو خدا کے نزدیک یہ غلطی اس نیکی سے بہتر ہے جو تم میں غرور پیدا کر دے۔

سب سے بڑی خیانت قوم کے ساتھ غداری ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی غریبی بے عقلی ہے۔

واضح اور روشن ترین راستہ حق و صداقت کا راستہ ہے۔

علم دولت سے بہتر ہے، تم دولت کی حفاظت کرتے ہو اور علم تمہاری حفاظت کرتا ہے، علم حاکم دولت محکوم، دولت خرچ کرنے سے کم ہوتی ہے اور علم بڑھتا ہے۔

پاکیزگی دنیا کی خواہشات پر لات مارنے سے ہوتی ہے۔

غصہ پی جایا کر، میں نے اس سے میٹھا کوئی جام نہیں دیکھا۔

رضائے الٰہی پر رضا رہنا قلب کو تسکین دیتا ہے۔

پرہیزگاری سے بڑھ کر کوئی عزت نہیں۔

لوگ بیماری کے خوف سے غذا پہلے چھوڑ دیتے ہیں لیکن عذابِ الٰہی کے خوف سے گناہ نہیں چھوڑتے۔

سامانِ حیرت و افرنگر عبرت پذیری بہت کم ہے۔

خاموشی علم کا زیور ہے اور جاہل کی جہالت کا پردہ۔

قناعت ہی سب سے بڑی دولت ہے۔

اگر اپنے دشمن پر قابو پاؤ تو اس کے شکریہ میں اسے معاف کر دو۔

نیکی کا ارادہ بدی کو دباتا ہے۔

جس نے باطل کی تائید کی اس نے حق پر ظلم کیا۔

بے صبری سے تقدیرِ الٰہی تو ٹلتی نہیں اجر و ثواب البتہ ضائع ہوتا ہے۔

سب سے بڑی دولت عقل ہے اور سب سے بڑی مفلسی بے وقوفی ہے۔

انسان کے لیے کتنا برا ہے کہ باطن بیمار اور ظاہر حسین ہو۔

اعتراض کی آگ سے انصاف کا پودا مرجھا جاتا ہے۔

کفایت شعار کبھی غریب نہیں ہوتا۔

آزادی کی حفاظت نہ کرنے والا غلامی میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

اپنے قلب کو نصیحت سے توانائی دو، حکمت سے منور کرو اور لوگوں سے بے نیاز ہو کر اسے قوت پہنچاؤ۔

جو شخص اپنے جسم پر غلبہ پاسکتا ہے اس کا جسم ہی اس کی قبر بن جاتا ہے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے