ہلالی چغتائی کا تعارف
تخلص : 'ہلالی'
ہلالی استرآبادی (874ھ/1470ء–936ھ/1529ء) فارسی ادب کے ممتاز ترک النسل شاعر تھے جنہوں نے تیموری اور صفوی عہد کے ادبی ماحول میں نمایاں مقام حاصل کیا، وہ استرآباد میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں ہرات منتقل ہوگئے، جہاں انہیں امیر علی شیر نوائی اور سلطان حسین بایقرا کی سرپرستی حاصل رہی، ہلالی اپنے عہد کے قادرالکلام غزل گو شاعر تھے اور ان کی شاعری میں سادگی، تاثیر اور صوفیانہ رنگ نمایاں ہے، انہوں نے دیوانِ ہلالی کے علاوہ تین اہم مثنویاں لکھیں، شاہ و درویش (شاہ و گدا)، صفت العاشقین اور لیلیٰ و مجنوں تصنیف کیں، جنہیں فارسی مثنوی نگاری کی اہم تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے، ان کے کلام پر حافظ، جامی اور کمال خجندی کے اثرات نظر آتے ہیں، تاہم ان کا اپنا منفرد اسلوب بھی تھا۔ 936ھ/1529ء میں ازبک حکمراں عبیداللہ خان کے حکم پر ہرات میں انہیں قتل کر دیا گیا، ہلالی کی شاعری آج بھی ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا، خصوصاً تاجکستان میں مقبول ہے اور انہیں فارسی ادب کے نمایاں کلاسیکی شعرا میں شمار کیا جاتا ہے۔