ابنِ عطاؤاللہ سکندری کا تعارف
اصلی نام : تاج الدین ابوالفضل احمد
وفات : مصر
ابن عطاؤاللہ الاسکندری اسلامی تاریخ کے ان جلیل القدر اہلِ علم و عرفان میں شمار ہوتے ہیں جن کی شخصیت نے بیک وقت فقہ، حدیث اور تصوف تینوں میدانوں میں گہرا اثر چھوڑا، ان کا مکمل نام تاج الدین ابوالفضل احمد بن محمد بن عبدالکریم الاسکندری الجذامی ہے، آپ کی ولادت اسکندریہ (مصر) میں ہوئی، جو اس دور میں علمی و فکری سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز تھا، ابتدائی تعلیم آپ نے اپنے عہد کے نامور مالکی فقہا سے حاصل کی اور بعد ازاں قاہرہ منتقل ہو کر جامعہ الازہر اور دیگر علمی مراکز میں تدریس و افتا کے فرائض انجام دیے، ابتدا میں آپ کا رجحان تصوف کی بعض صورتوں سے مختلف تھا، تاہم بعد ازاں آپ کی ملاقات شیخ ابوالعباس المرسى سے ہوئی جو سلسلۂ شاذلیہ کے عظیم شیخ تھے اور یہی ملاقات آپ کی فکری و روحانی زندگی کا فیصلہ کن موڑ ثابت ہوئی، اس صحبت نے آپ کے اندر کی فکری بے چینی کو سکون بخشا اور آپ مکمل طور پر شاذلی سلسلۂ تصوف سے وابستہ ہوگئے۔
ابن عطاؤاللہ الاسکندری کو شاذلیہ سلسلے کا تیسرا بڑا مرشد تسلیم کیا جاتا ہے، آپ نے اپنے شیخ ابوالعباس المرسى اور ان کے شیخ ابوالحسن شاذلی کے افکار و تعلیمات کو منظم صورت میں مرتب کیا اور انہیں ایک باقاعدہ فکری و روحانی نظام کی شکل دی، آپ کی علمی و روحانی خدمات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آپ نے ذکرِ الٰہی اور تزکیۂ نفس کے مباحث کو نہایت منظم اور فکری انداز میں پیش کیا، جس کی سب سے نمایاں مثال آپ کی تصنیف ’’مفتاح الفلاح‘‘ ہے، تاہم آپ کی اصل شہرت اور دوام آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’الحکم العطائیہ‘‘ (Kitab al-Hikam) کی بدولت ہے جو اسلامی تصوف کی نہایت جامع، عمیق اور حکیمانہ تصنیف شمار کی جاتی ہے، یہ کتاب مختصر مگر معنوی اعتبار سے بے حد وسیع اقوالِ حکمت پر مشتمل ہے، جن میں انسان اور خدا کے تعلق، توکل، رضا، اخلاص اور نفس کی اصلاح جیسے بنیادی موضوعات کو نہایت دلنشین اور فکری انداز میں بیان کیا گیا ہے، اس کتاب کو بعد کے ادوار میں بے شمار اہلِ علم نے شرح و توضیح کے ساتھ آگے بڑھایا، جن میں ابن عباد الرندی، احمد زروق اور احمد بن عجیبۃ جیسے اکابر شامل ہیں، ابن عطاؤاللہ الاسکندری نے نہ صرف تصوف کو فکری نظام عطا کیا بلکہ فقہ مالکی کی تدریس کے ذریعے علمی دنیا میں بھی اپنی مضبوط حیثیت قائم رکھی، آپ کا شمار ان علما میں ہوتا ہے جنہوں نے ظاہری شریعت اور باطنی معرفت کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی، آپ کی تعلیمات میں یہ توازن نمایاں طور پر جھلکتا ہے کہ شریعت کے بغیر طریقت ناقص اور طریقت کے بغیر شریعت بے روح ہے، تاریخی روایات کے مطابق آپ کے بعض معاصرین بالخصوص ابن تیمیہ کے ساتھ علمی و فکری مباحث بھی ہوئے جن کا محور تصوف، توسل اور بعض نظریاتی اختلافات تھے، تاہم ان مباحث کے باوجود علمی رواداری اور باہمی احترام کی فضا برقرار رہی جو اس دور کے علمی آداب کا نمایاں پہلو تھا، آپ کا وصال 1309ء میں قاہرہ میں ہوا اور آپ کو وہیں سپردِ خاک کیا گیا، آپ کی وفات کے باوجود آپ کی علمی و روحانی میراث آج بھی زندہ ہے، شاذلیہ سلسلہ کی توسیع اور فروغ میں آپ کی تصانیف اور افکار نے بنیادی کردار ادا کیا، خصوصاً شمالی افریقہ میں اس سلسلے کی اشاعت و قبولیت میں آپ کی کتابوں نے غیر معمولی اثر ڈالا۔