Font by Mehr Nastaliq Web
Ibn-e-Insha's Photo'

ابن انشا

1927 - 1978 | کراچی, پاکستان

اردو کے ممتاز شاعر، مزاح نگار، سفرنامہ نگار اور مترجم تھے، "اردو کی آخری کتاب"، "چاند نگر" اور "آوارہ گرد کی ڈائری" ان کی نمایاں تصانیف ہیں جبکہ "انشا جی اٹھو اب کوچ کرو" اور "کل چودھویں کی رات تھی" ان کی لازوال غزلوں میں شمار ہوتی ہیں۔

اردو کے ممتاز شاعر، مزاح نگار، سفرنامہ نگار اور مترجم تھے، "اردو کی آخری کتاب"، "چاند نگر" اور "آوارہ گرد کی ڈائری" ان کی نمایاں تصانیف ہیں جبکہ "انشا جی اٹھو اب کوچ کرو" اور "کل چودھویں کی رات تھی" ان کی لازوال غزلوں میں شمار ہوتی ہیں۔

ابن انشا کا تعارف

تخلص : 'انشا'

اصلی نام : شیر محمد خاں

پیدائش : 15 Jun 1927 | جالندھر, پنجاب

وفات : 11 Jan 1978 | دوسرا, برطانیہ

ابنِ انشا کا اصل نام شیر محمد خان تھا، وہ 15 جون 1927ء کو جالندھر کے قصبہ پھلور میں پیدا ہوئے، ان کے آبا و اجداد کا تعلق راجستھان سے تھا، ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں 1953ء میں جامعہ کراچی سے ایم اے مکمل کیا، قیامِ پاکستان کے بعد علمی و ادبی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ مختلف سرکاری اداروں سے وابستہ رہے جن میں ریڈیو پاکستان، وزارتِ ثقافت اور نیشنل بک سینٹر پاکستان قابلِ ذکر ہیں، ابنِ انشا کی زندگی کا ایک اہم پہلو اقوامِ متحدہ سے وابستگی بھی ہے، اس ملازمت نے انہیں دنیا کے مختلف ممالک کی سیاحت کا موقع فراہم کیا، انہوں نے جاپان، چین، فلپائن، ہانگ کانگ، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا، افغانستان، ایران، ترکی، فرانس، برطانیہ اور امریکہ سمیت متعدد ممالک کا سفر کیا، یہی مشاہدات بعد میں ان کے دل آویز اور بے مثال سفرناموں کی صورت میں جلوہ گر ہوئے، ان کے اساتذہ میں حبیب اللہ غزنفر امرہوی اور غلام مصطفیٰ خاں جیسے اہلِ علم شامل تھے، نوجوانی کے زمانے میں وہ لاہور میں ساحر لدھیانوی کے ساتھ بھی کچھ عرصہ مقیم رہے اور ترقی پسند تحریک کے فکری حلقوں سے بھی وابستہ رہے۔
ابنِ انشا بنیادی طور پر ایک ہمہ جہت ادیب تھے لیکن ان کی اصل شناخت شاعر، مزاح نگار اور سفرنامہ نگار کی حیثیت سے قائم ہوئی، ان کی شاعری میں کلاسیکی روایت کی شیرینی، عوامی زبان کی سادگی اور جدید احساس کی تازگی ایک ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے، ان کے کلام میں امیر خسرو کی یاد دلانے والی لفظیات، ہندی الاصل الفاظ کی خوشگوار آمیزش اور دیسی لہجوں کی دلکشی پائی جاتی ہے، یہی خصوصیات ان کے اسلوب کو معاصر شاعروں سے ممتاز کرتی ہیں۔
ان کی شاعری کے مجموعوں میں چاند نگر، اس بستی کے ایک کوچے میں اور دلِ وحشی کو خصوصی شہرت حاصل ہوئی، بچوں کے لیے ان کی کتاب بلو کا بستہ بھی نہایت مقبول رہی، ان کی مشہور غزل ’’انشا جی اٹھو اب کوچ کرو‘‘ اردو شاعری کا ایک لازوال شاہکار سمجھی جاتی ہے جسے استاد امانت علی خاں نے اپنی سحر انگیز آواز میں امر کر دیا، اسی طرح ’’کل چودھویں کی رات تھی‘‘ اور ’’یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں‘‘ جیسی غزلیں برصغیر کے ادبی اور موسیقی حلقوں میں آج بھی بے حد مقبول ہیں۔
مزاح نگاری کے میدان میں ابنِ انشا کا مقام نہایت بلند ہے، انہوں نے ظرافت کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے سماجی شعور، فکری لطافت اور تہذیبی بصیرت کا وسیلہ بنایا، ان کی شہرۂ آفاق تصنیف اردو کی آخری کتاب اردو مزاح کی کلاسیکی کتابوں میں شمار ہوتی ہے، اس کے علاوہ خط انشا جی کے، خمارِ گندم، آپ سے کیا پردہ اور باتیں انشا جی کی جیسی کتابیں ان کے مزاحیہ اسلوب اور شگفتہ طرزِ نگارش کی عمدہ مثالیں ہیں۔
سفرنامہ نگاری میں بھی ابنِ انشا نے ایک منفرد روایت قائم کی، ان کے سفرنامے محض جغرافیائی مشاہدات کا بیان نہیں بلکہ تہذیبوں، ثقافتوں اور انسانی رویوں کی دلکش تصویریں ہیں، آوارہ گرد کی ڈائری، دنیا گول ہے، چلتے ہو تو چین کو چلیے، نگری نگری پھرا مسافر اور ابن بطوطہ کے تعاقب میں اردو سفرنامہ نگاری کے سرمایۂ افتخار کی حیثیت رکھتے ہیں، ان تحریروں میں قاری کو علم، مشاہدہ، مزاح اور ادبی حسن کا حسین امتزاج ملتا ہے، ابنِ انشا نے ترجمہ نگاری کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں، انہوں نے چیخوف، او ہنری اور ایڈگر ایلن پو جیسے عالمی ادیبوں کی تخلیقات کو اردو قالب میں منتقل کیا، علاوہ ازیں انہوں نے چینی شاعری کے منتخب نمونوں کا بھی اردو ترجمہ کیا، جس سے اردو قارئین کو عالمی ادب سے روشناس ہونے کا موقع ملا، 11 جنوری 1978ء کو لندن میں دورانِ علاج ہاجکنز لیمفوما کے باعث ان کا انتقال ہوا، بعد ازاں ان کی تدفین کراچی میں عمل میں آئی۔

موضوعات

Recitation

بولیے