Font by Mehr Nastaliq Web
Ibn-e-Yameen's Photo'

ابن یمین

1286 - 1368 | ایران

فارسی ادب کے ممتاز قطعہ گو شاعر تھے جن کی شاعری اخلاقی، عرفانی اور عشقیہ مضامین کی ترجمان ہے۔

فارسی ادب کے ممتاز قطعہ گو شاعر تھے جن کی شاعری اخلاقی، عرفانی اور عشقیہ مضامین کی ترجمان ہے۔

ابن یمین کا تعارف

اصلی نام : ابن یمین

وفات : ایران

امیر فخرالدین محمود بن امیر یمین الدین طغرائی فریومدی (پیدائش: ۶۸۵ھ، فریومد، نواحِ سبزوار — وفات: ۷۶۹ھ) ایرانی فلسفی، ادیب اور ممتاز قطعہ گو شاعر تھے، ان کے والد امیر یمین الدین ایک صاحبِ علم و ادب شاعر تھے جو سلطان محمد خدابندہ کے عہد میں زندگی بسر کرتے تھے، وہ خراسان کے امرا کے دربار میں دفتری خدمات اور طغرا نویسی پر مامور تھے اور غالباً اسی نسبت سے طغرائی کہلائے، ابنِ یمین کی ابتدائی زندگی خراسان میں گزری جوانی کے زمانے میں وہ تبریز گئے اور وہاں وزیر غیاث الدین محمد بن رشیدالدین فضل اللہ کے دربار سے وابستہ ہوئے اور ان کی مدح میں اشعار کہے، تاہم تبریز میں ان کا قیام زیادہ عرصہ قائم نہ رہ سکا، یہاں تک کہ انہوں نے ایک قطعہ میں غیاث الدین محمد سے اپنے وطن واپس جانے کی اجازت طلب کی، ان کے دیوان میں ایک اور قطعہ بھی ملتا ہے جس سے عراقِ عجم میں ان کی سکونت اور پھر خراسان واپسی کا پتا چلتا ہے، والد کے انتقال کے بعد ابنِ یمین نے سربداران کے امرا کے منشی کی حیثیت سے ان کی جگہ سنبھالی، وہ متعدد جنگوں اور سفروں میں بھی ان حکمرانوں کے ہمراہ رہے، ۱۳ صفر ۷۴۳ھ کو زاوه میں ملک معز الدین حسین کرت اور خواجہ وجیہ الدین مسعود سربداری کے درمیان جو جنگ ہوئی، اس میں خواجہ وجیہ الدین کو شکست اور فرار کا سامنا کرنا پڑا، اسی ہنگامے میں ابنِ یمین کا دیوان بھی لوٹ مار میں ضائع ہوگیا، خواند میر کے بیان کے مطابق خود شاعر بھی اس جنگ میں لشکرِ ہرات کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے تھے، جب انہیں بادشاہ کے سامنے پیش کیا گیا تو بادشاہ نے ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، اپنے دیوان کے ضائع ہو جانے پر ابنِ یمین نے ایک قطعہ بھی کہا، اگرچہ ان کے دیوان کی بازیابی کے لیے بہت کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہ ہوسکی، چنانچہ شاعر نے اپنے منتشر اشعار کو مختلف مقامات سے جمع کیا اور بعد میں کہی گئی نئی شاعری کو شامل کر کے ایک نیا دیوان مرتب کیا، عمر کے آخری حصے میں ابنِ یمین نے دربار سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور اپنی وفات تک اپنے آبائی وطن فریومد ہی میں مقیم رہے، ان کے شعری دیوان کے علاوہ ان کی بعض نثری تحریریں اور مکاتیب بھی دستیاب ہیں، یہ تحریریں ان کے دیوان کے قدیم ترین نسخے میں محفوظ ہیں جو غالباً ۹۳۱ھ سے قبل مرتب کیا گیا تھا اور ان میں سے دو خطوط شائع بھی ہوچکے ہیں، ان کی غزلوں کے مضامین زیادہ تر عشقیہ ہیں، تاہم ان میں اخلاقی اور عرفانی اشارات بھی پائے جاتے ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے