Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

اندرجیت گاندھی

1925 | سیالکوٹ, پاکستان

سیالکوٹ کے ممتاز شاعر، صحافی اور ادیب تھے، آپ نے تحریکِ آزادی میں حصہ لیا، متعدد اخبارات و رسائل کی ادارت کی اور شاعری، سوانح نگاری اور سماجی موضوعات پر کئی کتابیں تصنیف کیں۔

سیالکوٹ کے ممتاز شاعر، صحافی اور ادیب تھے، آپ نے تحریکِ آزادی میں حصہ لیا، متعدد اخبارات و رسائل کی ادارت کی اور شاعری، سوانح نگاری اور سماجی موضوعات پر کئی کتابیں تصنیف کیں۔

اندرجیت گاندھی کا تعارف

تخلص : 'گاندھی'

اصلی نام : اندرجیت گاندھی

پیدائش : 06 Oct 1925 | سیالکوٹ, پنجاب

اندرجیت گاندھی 6 اکتوبر 1925ء کو سیالکوٹ کے قصبہ ڈسکہ میں پیدا ہوئے، ان کے والد ایل۔ ایم۔ گاندھی ایک تعلیم دوست اور روشن خیال شخصیت تھے، اندرجیت گاندھی کی ابتدائی اور ثانوی تعلیم مشن ہائی اسکول ڈسکہ میں ہوئی، بعد ازاں انہوں نے اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور کا رخ کیا اور ڈی۔ اے۔ وی۔ کالج اور سناتن دھرم کالج جیسے ممتاز علمی اداروں سے کسبِ فیض کیا، لاہور کے علمی و ادبی ماحول نے ان کی فکری بصیرت کو جلا بخشی اور ان کے اندر قومی و سماجی شعور کو مزید مہمیز دی، انہوں نے تحریکِ آزادی میں سرگرم حصہ لیا اور اپنے انقلابی افکار و سرگرمیوں کے باعث دو مرتبہ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، صحافت کے میدان میں بھی اندرجیت گاندھی نے نمایاں خدمات انجام دیں، قیامِ پاکستان سے قبل وہ روزنامہ ’’سیالکوٹ‘‘ کے ہفت روزہ ایڈیشن اور ہفت روزہ ’’وطن‘‘ کے مدیر رہے، ان جرائد کے ذریعے انہوں نے عوامی مسائل، قومی معاملات اور سماجی موضوعات کو مؤثر انداز میں پیش کیا، تقسیمِ ہند کے بعد بھی ان کی صحافتی سرگرمیاں جاری رہیں اور انہوں نے متعدد اہم رسائل و جرائد کی ادارت کے فرائض انجام دیے، جن میں ’’نئی دیہات‘‘، ’’امرجوت‘‘، ’’سکھ ساگر‘‘ اور ’’مہک‘‘ خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں، اندرجیت گاندھی کی ادبی خدمات نہایت متنوع اور وقیع ہیں، انہوں نے شاعری، سوانح نگاری اور سماجی موضوعات پر متعدد کتابیں تصنیف کیں، ان کی اہم تصانیف میں ’’پریم کے گیت‘‘، ’’رنگیلے گیت‘‘، ’’شہیدِ اعظم بھگت سنگھ‘‘، ’’سپنے ٹوٹ گئے‘‘ اور ’’نیا بنگلہ دیش‘‘ شامل ہیں، اگرچہ اندرجیت گاندھی بنیادی طور پر ایک قومی اور سماجی شاعر و ادیب کی حیثیت سے معروف ہیں، تاہم ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی نعت گوئی بھی ہے، انہوں نے حضرت رسول اللہ کی بارگاہِ اقدس میں عقیدت و محبت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے نعتیہ کلام بھی کہا جو ان کے قلبی اخلاص اور مذہبی رواداری کا آئینہ دار ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے