Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

ارم لکھنوی

کراچی, پاکستان

دبستانِ کراچی کے ممتاز غزل گو شاعر تھے، ان کی شاعری زبان کی سلاست، سادگی اور سہلِ ممتنع کی عمدہ مثال ہے، غزل کے علاوہ نعت، منقبت اور سلام نگاری میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں، خصوصاً امام حسین کے حضور ان کے سلام عقیدت و محبت کے جذبات سے بھرپور ہیں۔

دبستانِ کراچی کے ممتاز غزل گو شاعر تھے، ان کی شاعری زبان کی سلاست، سادگی اور سہلِ ممتنع کی عمدہ مثال ہے، غزل کے علاوہ نعت، منقبت اور سلام نگاری میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں، خصوصاً امام حسین کے حضور ان کے سلام عقیدت و محبت کے جذبات سے بھرپور ہیں۔

ارم لکھنوی کا تعارف

تخلص : 'ارم'

پیدائش :لکھنؤ, اتر پردیش

دبستانِ کراچی میں ارم لکھنوی کو ایک معتبر اور ممتاز غزل گو شاعر کی حیثیت حاصل تھی، ان کی غزل گوئی کا نمایاں وصف زبان کی روانی، بیان کی سلاست اور اظہار کی شگفتگی تھا، وہ سہلِ ممتنع کے رنگ میں اشعار کہتے تھے اور لفظ و معنی کے توازن کو بڑی مہارت سے برقرار رکھتے تھے، اس اعتبار سے ان کی شاعری میں وہی سادگی اور دل آویزی دکھائی دیتی ہے جو بہزاد لکھنوی کی شعری روایت کا امتیاز سمجھی جاتی ہے، انہوں نے اپنے کلام میں سلاستِ زبان کو ہمیشہ اہمیت دی اور پیچیدہ تراکیب یا تصنع آمیز اسلوب سے گریز کیا، ارم لکھنوی نہ صرف خوش فکر شاعر تھے بلکہ پڑھتے بھی خوب تھے، غزل کے علاوہ نعت، منقبت اور سلام نگاری میں بھی انہوں نے قابلِ ذکر خدمات انجام دیں، بارگاہِ رسالت مآب میں عقیدت کے پھول نچھاور کرنے کے ساتھ ساتھ اہلِ بیتِ اطہار سے اپنی والہانہ وابستگی کا اظہار بھی کیا، خصوصاً امام حسین کی خدمت میں کہے گئے ان کے سلام عقیدت، محبت اور سوز و گداز کے جذبات سے لبریز ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے