کیولا پرساد فقیر کا تعارف
تخلص : 'فقیر'
اصلی نام : کیولا پرساد
مظفرپور کی علمی و ادبی تاریخ میں منشی کیولا پرشاد فقیر ایک صاحبِ علم، قادرالکلام شاعر، ادیب اور ماہرِ خوشنویس کی حیثیت سے نمایاں مقام رکھتے ہیں، ان کے حالات و کمالات کا ذکر فصیح الدین احمد بلخی نے تذکرۂ ہندو شعرائے بہار میں کیا ہے، ان کے مطابق منشی کیولا پرشاد فقیر مظفرپور کے سکونت پذیر، نہایت ذی علم اور صاحبِ ذوق شاعر و ادیب تھے اور عربی، فارسی، سنسکرت اور اردو پر کامل دسترس رکھتے تھے، ان کی شخصیت میں مختلف علمی و تہذیبی روایتوں کا حسین امتزاج نمایاں تھا، شعر و ادب کے ساتھ فنِ خطاطی میں بھی انہیں غیر معمولی مہارت حاصل تھی، ڈاکٹر رضوان اللہ آروی نے فصیح بلخی کے حوالے سے ان کی خوشنویسی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ایک رباعی نہایت خوب صورت نستعلیق میں تھی، اگر یاقوتِ مستعصمی زندہ ہوتے تو وہ بھی اس کی داد دیے بغیر نہ رہتے، یہ توصیف فقیر کی خطاطانہ مہارت کی بلندی کا اندازہ کرانے کے لیے کافی ہے، رضوان اللہ آروی نے ان کے شعری احوال کے ضمن میں یہ اہم انکشاف بھی کیا ہے کہ ’’دیوانِ فقیر‘‘ حضرت علی مرتضیٰ کی منقبت پر مشتمل ہے اور بہار کی ادبی تاریخ کی اہم اؤلیات میں شمار ہوتا ہے، شاعری میں انہوں نے داروغہ سید مبارک علی طالب سے تلمذ حاصل کیا جن کی متعدد غزلیں بھی دیوانِ فقیر میں شامل ہیں، فقیر کے سوانحی حالات کا ایک اہم ماخذ ان کی اردو مثنوی ہے، جس کے بعض اشعار ان کے خاندانی پس منظر پر روشنی ڈالتے ہیں اور اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ان کا تعلق راجہ رام نرائن موزوں کے خانوادے سے تھا، اس طرح کیولا پرشاد فقیر کی شخصیت بہار کی اس مشترکہ علمی و ادبی روایت کی ایک روشن مثال بن کر سامنے آتی ہے، جس میں فارسی و اردو ادب، ہندوستانی علوم اور فنونِ لطیفہ نے باہم مل کر ایک ہمہ گیر تہذیبی فضا تشکیل دی تھی۔