لالہ امر ناتھ کا تعارف
تخلص : 'قیس'
اصلی نام : لالہ امر ناتھ
برہم ناتھ دت جو قاصر کے تخلص سے معروف ہیں، 14 ستمبر 1891ء کو گرداسپور کے ایک معزز اور علمی خانوادے میں پیدا ہوئے، ان کے والد چودھری گوراں تامل دت علم و فضل کے حامل، صاحبِ ذوق اور نہایت باوقار شخصیت تھے، ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے مختلف شعبوں میں ملازمت کی اور تجارت کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا کامیاب مظاہرہ کیا، قاصر نے شعر گوئی کا آغاز 1907ء میں کیا اور اپنے فنی ذوق کو مزید نکھارنے کے لیے 1912ء میں ممتاز شاعر حکیم فیروزالدین فیروز کی شاگردی اختیار کی، وہ غیر معمولی ذہانت، وسیع مطالعے اور ہمہ جہت علمی شخصیت کے مالک تھے، ادب کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی بھرپور حصہ لیا اور تحریکِ آزادی کے مختلف مراحل میں فعال کردار ادا کیا، قومی جدوجہد کے نتیجے میں قید و بند کی صعوبتیں بھی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کیں، ان کی علمی و ادبی خدمات نہایت وسیع اور متنوع ہیں، ان کی اہم تصانیف میں "ڈال ڈال پات پات"، "مکتوبات"، "پرچمِ ضیا"، "جوہر پارے"، "برگ و بار"، "اہلِ سیف"، "ہومر"، "میرابائی" اور "ذکر و فکر" شامل ہیں جو ان کے وسیع مطالعے، تحقیقی بصیرت اور ادبی عظمت کی روشن دلیل ہیں، ان کی گراں قدر ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ ہند نے انہیں پدم شری کے باوقار اعزاز سے نوازا جو ان کی ادبی عظمت کا سرکاری اعتراف تھا، 25 نومبر 1975ء کو اردو ادب کا یہ درخشاں ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔