منوہر لال دل کا تعارف
منوہر لال دل بن جووندامل آنند کی پیدائش 27 جنوری 1912ء کو جموں میں ہوئی، انہیں بچپن ہی سے شعر و ادب سے گہری دلچسپی تھی اور زمانۂ طالب علمی ہی میں انہوں نے شعر کہنا شروع کردیا تھا، ان کے فطری شعری ذوق کو اس وقت مزید جلا ملی جب انہیں اثر لکھنوی اور ڈاکٹر بشیر محمد خاں متین شیرانی جیسے اہلِ علم و ادب کی صحبت میسر آئی، انہوں نے ان بزرگوں کی صحبت سے نہ صرف شعری ذوق کی تربیت پائی بلکہ سخن فہمی، زبان و بیان کی نزاکتوں اور فنِ شعر کے تقاضوں سے بھی واقفیت حاصل کی، ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور اہلِ سخن کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کے لیے انہوں نے 1938ء میں بزمِ سخن، جموں کی بنیاد رکھی جو بعد میں بزمِ اردو، جموں کے نام سے سرگرمِ عمل رہی، ان کی قائم کردہ اس ادبی انجمن کے زیرِ اہتمام ہر سال مشاعرے منعقد ہوتے تھے 1952ء کے سالانہ مشاعرے میں انہیں جوش ملسیانی سے شرفِ نیاز حاصل ہوا، ان کی شخصیت اور شاعری سے متاثر ہوکر وہ ان کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوگئے، عملی زندگی میں انہوں نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا، جموں میں خدمات انجام دیں اور ایک اعلیٰ عہدے سے سبکدوش ہوئے، ملازمت سے فراغت کے بعد انہوں نے مستقل طور پر جموں ہی کو اپنا مسکن بنائے رکھا، منوہر لال دل نے تقریباً تمام اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی، ان کے کلام میں غزل و نظم کے علاوہ دیگر شعری اصناف کے نمونے بھی ملتے ہیں، ان کا مجموعۂ کلام "نقدِ دل" 1973ء میں شائع ہوا، ان کے کلام میں نعتیہ اشعار بھی ملتے ہیں جن سے ان کے مذہبی جذبات، عقیدت اور قلبی وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔