Font by Mehr Nastaliq Web
Manzoor Aarfi's Photo'

منظور عارفی

1910 - 1990 | کراچی, پاکستان

صوفی شاعر، منقبت نگار اور معلم تھے، سلسلۂ جہانگیریہ سے وابستہ تھے، ان کا کلام ممتاز قوالوں نے گایا، جبکہ مناقب، غزل اور تاریخ گوئی ان کی نمایاں ادبی شناخت ہے۔

صوفی شاعر، منقبت نگار اور معلم تھے، سلسلۂ جہانگیریہ سے وابستہ تھے، ان کا کلام ممتاز قوالوں نے گایا، جبکہ مناقب، غزل اور تاریخ گوئی ان کی نمایاں ادبی شناخت ہے۔

منظور عارفی کا تعارف

تخلص : 'منظور'

اصلی نام : منظور عارفی

وفات : سندھ, پاکستان

مولانا منظور احمد خاں عارفی اور ملقب بہ قبول عارفی و بوئے عارفی، 1910ء میں فتح پور سیکری میں میاں خاں لودھی کے گھر پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد میٹرک تک تعلیم حاصل کی، قیامِ پاکستان کے بعد کراچی منتقل ہوگئے، جہاں تدریس کے شعبے سے وابستہ ہوئے اور بطور اسکول ماسٹر اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا، بعد ازاں ہیڈ ماسٹر کے منصب پر فائز ہوئے اور اسی عہدے سے سبکدوش ہوئے، آپ کی شادی اپنے برادرِ طریقت شاہ نظام الدین قریشی عارفی کی ہمشیرہ بی بی آمنہ سے ہوئی، 25 ربیع الثانی 1411ھ مطابق 14 نومبر 1990ء بروز بدھ آپ کا وصال ہوا اور کھجی گراؤنڈ قبرستان، پیر آباد (گولی مار)، کراچی میں سپردِ خاک کیے گئے، آپ کو سلسلۂ سہروردیہ غزنویہ کے معروف بزرگ عارفی سرکار سے بیعت و خلافت کا شرف حاصل تھا، آپ کے کلام کو ملک کے ممتاز قوالوں جن میں استاد کلن خاں، بہاؤالدین خاں، منظور احمد خاں نیازی، سجاد حسین عارفی، اقبال حسین عارفی، جعفر حسین نظامی، خلیق رئیس، فاروق احمد نظامی، انور خاں نیازی، امان اللہ نظامی، ممتاز اشرفی ہاشمی اور سراج انور شامل ہیں اپنی آواز سے مزین کیا، منظور عارفی کو اپنے شیخِ طریقت سے غیر معمولی عقیدت و محبت تھی، چنانچہ مستقل مناقب کے علاوہ اپنی غزلوں میں بھی وہ اپنے مرشد سے والہانہ وابستگی کے اظہار کا موقع نکال لیتے تھے، غزل گوئی کے ساتھ ساتھ انہیں تاریخ گوئی سے بھی خاص مناسبت تھی، اپنے شیخِ طریقت کے ابتدائی مشائخ شاہ عبدالرحمٰن بدایونی اور سید انوارالرحمٰن بسمل جے پوری کے شجرہ ہائے طریقت بھی انہوں نے اپنے مرشد کے حکم پر منظوم کیے، ان کے قلم سے نکلے ہوئے متعدد مناقب اور منظوم شجرات، عارفی سرکار کی حیات ہی میں شائع ہونے والے شجرۂ طیبہ میں مسلسل شائع ہوتے رہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے