Font by Mehr Nastaliq Web
Munawwar Lakhnavi's Photo'

منور لکھنوی

1897 - 1970 | لکھنؤ, بھارت

بھگوت گیتا کا اردو میں منظوم ترجمہ کرنے کے لیے مشہور

بھگوت گیتا کا اردو میں منظوم ترجمہ کرنے کے لیے مشہور

منور لکھنوی کا تعارف

تخلص : 'منور'

اصلی نام : بششور پرشاد

پیدائش : 07 Jul 1897 | لکھنؤ, اتر پردیش

وفات : 24 May 1970 | دہلی, بھارت

رشتہ داروں : جگدیش مہتہ درد (مرشد), باوا کرشن گوپال (مرشد)

منور لکھنوی 7 جولائی 1897ء کو ایک ایسے خانوادے میں پیدا ہوئے جو شعر و ادب کی دولت سے مالامال تھا، ان کے والد منشی دوارکا پرشاد افقؔ چچا منشی رام سہائے تمناؔ اور منشی ماتا پرشاد نیساںؔ ماموں منشی جگدما پرشاد قیصرؔ اور سسر منشی لکشمن پرشاد صدرؔ اپنے اپنے عہد کے خوش فکر شعرا میں شمار ہوتے تھے، منور لکھنوی کا اصل نام منشی بشیشور پرشاد تھا، رسمی تعلیم انٹرنس تک محدود رہی لیکن فارسی، عربی، اردو، سنسکرت اور انگریزی کا وسیع مطالعہ کیا اور علمی و ادبی ذوق کو غیر معمولی وسعت عطا کی، شعر و سخن میں نوبت رائے نظر لکھنوی سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، 1922ء سے 1957ء تک ریلوے ڈپارٹمنٹ کے شعبۂ آڈٹ سے وابستہ رہے اور ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد بھی علمی و ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا، 1916ء سے 1922ء تک رسالہ دربار کے شعبۂ نظم کی ادارت بھی انجام دی، منور لکھنوی کثیرالتصانیف تھے، ان کی پہلی تصنیف نذرِ ادب 1929ء میں شائع ہوئی اور 42 برس کے ادبی سفر میں ان کی تقریباً 25 کتابیں زیورِ طباعت سے آراستہ ہوئیں، آخری دس برسوں میں ان کے بارہ تراجم منظرِ عام پر آئے، اردو منظوم ترجمے میں انہیں ایک نمایاں مقام حاصل تھا، قرآنِ مجید کے بعض اہم حصوں کے علاوہ متعدد مذہبی کتب اور عربی، فارسی، انگریزی و سنسکرت کے متعدد شہ پاروں کو اردو نظم کے قالب میں ڈھالا، وہ فارسی میں بھی شعر کہتے تھے، ان کی تصانیف میں کائناتِ دل، سوزِ وطن، جگر ہائے لخت لخت، زیرۂ گل، تاثراتِ منور، نوائے نو، ادائے نو، ضیائے نو، عطائے نو، بنائے نو اور زعفران زار خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، نعتیہ شاعری سے بھی گہری وابستگی تھی اور دربارِ نبوی میں اپنے نذرانۂ عقیدت پیش کیے، 24 مئی 1970ء کو یہ کثیرالجہت ادیب و شاعر دنیا سے رخصت ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے