خزان چند نسیم حیرتی کا تعارف
خزاں چند نسیم اردو کے ان ہمہ جہت اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے نظم و نثر کی متعدد اصناف میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا کامیاب اظہار کیا، ان کی ولادت 10 نومبر 1911ء کو جیلنوانہ، گوجرانوالہ میں ہوئی، انہیں معروف شاعر جوش ملسیانی کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا جس کے اثرات ان کی شاعری میں نمایاں طور پر محسوس کیے جاسکتے ہیں، خزاں چند نسیم کی ادبی شخصیت نہایت متنوع تھی، انہوں نے غزل، قطعہ، رباعی اور گیت کے علاوہ طنز و مزاح میں بھی قابلِ قدر خدمات انجام دیں، نثر میں بھی ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا اظہار افسانوں، کہانیوں، لطائف اور مکرنیوں کی صورت میں ہوا جس سے ان کی ہمہ گیر ادبی استعداد آشکار ہوتی ہے، اگرچہ ان کی بنیادی شناخت ایک ہمہ جہت شاعر اور ادیب کی ہے، تاہم نعت گوئی سے بھی انہیں خصوصی شغف تھا، انہوں نے نہایت اخلاص، وارفتگی اور عقیدت کے ساتھ نعتیہ کلام تخلیق کیا جس میں محبتِ رسولِ اکرم، ادبِ بارگاہِ رسالت اور روحانی وابستگی کے جذبات نہایت مؤثر پیرایۂ اظہار میں جلوہ گر ہوتے ہیں، خزاں چند نسیم نے اپنی شعری اور نثری تخلیقات کے ذریعے اردو ادب کے مختلف شعبوں کو ثروت مند بنایا اور اپنی متنوع ادبی خدمات کے باعث اہلِ ادب میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھے گئے، 6 مارچ 1984ء کو ان کا انتقال ہوا، ان کی یادگار تخلیقات آج بھی ان کے ذوقِ ادب، فنی مہارت اور والہانہ جذبۂ عشقِ رسول کی روشن علامت سمجھی جاتی ہیں۔