رابعہ بصری کے صوفی اقوال
جب ان سے دنیا کی کسی ایسی چیز کے بارے میں پوچھا گیا جو وہ حاصل کرنا چاہتی تھیں تو انہوں نے جواب دیا کہ
مجھے اس ذات سے دنیا کی کوئی چیز مانگتے ہوئے شرم آتی ہے جس کی یہ دنیا ہے، پھر میں ان لوگوں سے کیسے مانگ سکتی ہوں جن کی یہ ہے ہی نہیں
جو کام حکمت سے خالی ہے وہ آفت ہے جو خاموشی حکمت سے خالی ہے وہ غفلت ہے جو نظر حکمت سے خالی ہے وہ ذلت ہے۔
مجھے اجر و ثواب کی امید اس وقت ہوتی ہے جب اپنے اعمال و عبادت کو ہلکا سمجھتی ہوں اور اس وقت جب کہ میرا اعتماد محض خدائے رحمٰن کے فضل و کرم پر رہتا ہے۔
ایک دن رابعہ کو ایک ہاتھ میں آگ اور دوسرے میں پانی لیے تیزی سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا، لوگوں نے ان سے پوچھا کہ ان کے اس عمل کا کیا مطلب ہے اور وہ کہاں جا رہی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ میں جنت میں آگ لگانے اور جہنم پر پانی ڈالنے جا رہی ہوں تاکہ سالکین کے سامنے سے یہ دونوں حجاب مکمل طور پر ہٹ جائیں اور ان کا مقصد خالص ہو جائے اور خدا کے بندے کسی امید یا خوف کے بغیر صرف اس کا دیدار کر سکیں۔
اے نفس! تو خدا سے محبت کا دعویدار ہے اور اس کی نافرمانی بھی کرتا ہے، اگر تو محبت میں صادق ہے تو اپنے رب کی اطاعت بھی کر محبت کرنے والا اپنے محبوب کی اطاعت ضرور کرتا ہے۔
توبہ اؤلیا کو فضلِ الٰہی سے حاصل ہوتی ہے اور یہ خدا کی طرف سے آتی ہے جو ان لوگوں کے دلوں کو منور کرتا ہے جن سے وہ محبت کرتا ہے، محض باضابطہ استغفار کرنا جھوٹ کا گناہ ہے، اگر میں خود سے توبہ کروں تو مجھے اپنی اس توبہ پر دوبارہ توبہ کی ضرورت ہوگی۔
میرے درد اور تنہائی کی وجہ میرے سینے کی گہرائیوں میں ہے، یہ ایسی بیماری ہے جس کا کوئی طبیب علاج نہیں کر سکتا، اس کا علاج صرف 'دوست' سے ملاقات ہے۔
جب تک میں اس دنیا میں ہوں، اس دنیا سے میری صرف یہی چاہت ہے کہ تجھے یاد رکھوں اور آخرت میں میری واحد آرزو تیرا دیدار ہے، اس کے علاوہ تو میرے ساتھ جو چاہے کر۔
میں نے جہنم کے خوف سے خدا کی عبادت نہیں کی، کیوں کہ اگر میں خوف سے ایسا کرتی تو ایک بدبخت مزدور کی طرح ہوتی اور نہ ہی جزا کے لالچ میں، کیوں کہ اگر میں عطیات کی خاطر خدمت کرتی تو ایک بری خادمہ ہوتی بلکہ میں نے اس کی عبادت صرف اس کی محبت اور اس کی طلب میں کی ہے۔
روح خدا کی طرف سے آتی ہے اور اگر اسے نفس کشی کے ذریعے پاک کر لیا جائے تو یہ اس کے ساتھ متحد ہوسکتی ہے۔
ان سے پوچھا گیا کہ بندہ کب مطمئن ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ جب مصائب اسے اتنی ہی خوشی دیں جتنی کہ نعمتیں
خلوت خدا تک پہنچنے کے لیے روح کی بہترین تیاری ہے، تنہائی ہی کی حالت میں روح خدا کی صفات پر غور و فکر کرتی ہے۔
She asked in her private prayer, “O my Lord, will you burn in the Fire a heart that holds love for you?” The caller answered, “We will never do such a thing. Do not think so poorly of Us.”
She asked in her private prayer, “O my Lord, will you burn in the Fire a heart that holds love for you?” The caller answered, “We will never do such a thing. Do not think so poorly of Us.”
In her prayer to God, she says; “O my Lord! If I worship Thee on account of the fear of Hell, bum me in Hell, and if I worship Thee with the hope of Paradise, exclude me from it, but if I worship Thee for Thine own sake, then withhold not from me Thine Eternal Beauty.
In her prayer to God, she says; “O my Lord! If I worship Thee on account of the fear of Hell, bum me in Hell, and if I worship Thee with the hope of Paradise, exclude me from it, but if I worship Thee for Thine own sake, then withhold not from me Thine Eternal Beauty.
Once she fell ill and someone asked her the cause of her illness. She replied, “Because I turned my heart to Paradise, He chastised me. Now he is content with me. I will not do it again.”
Once she fell ill and someone asked her the cause of her illness. She replied, “Because I turned my heart to Paradise, He chastised me. Now he is content with me. I will not do it again.”
Love, for Rabia, is the basis of spiritual perfection at all the stages on the journey to God. She teaches to love God for the sake of God.
Love, for Rabia, is the basis of spiritual perfection at all the stages on the journey to God. She teaches to love God for the sake of God.
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere