روی پرکاش بھاردواج کا تعارف
روی پرکاش بھاردواج ایک ایسے علمی و ادبی خانوادے کے چشم و چراغ تھے جس کی بنیاد علم، تہذیب اور شعری ذوق پر استوار تھی، وہ معروف شاعر پنڈت ستیہ نارائن بھاردواج کے صاحبزادے تھے، 20 اگست 1928ء کو گڑگاؤں میں پیدا ہوئے جہاں انہیں ابتدائی عمر ہی سے ادب اور شعر و سخن کی فضا میسر آئی، ابتدائی و ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان کامیابی کے ساتھ پاس کیا، عملی زندگی کا آغاز مختلف تجارتی اداروں میں ملازمت سے ہوا جہاں پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ان کا ادبی ذوق بھی مسلسل پروان چڑھتا رہا، فنِ شاعری میں انہیں معروف شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی سحرؔ سے شرفِ تلمذ حاصل ہوا، ان کی ادبی خدمات کا ایک اہم مظہر ان کا شعری مجموعہ "روی کی کرنیں" ہے جو 1971ء میں منظرِ عام پر آیا، اس کے بعد ان کے دوہوں کا مجموعہ "روی کے گوہر پارے" اور غزلیات کا مجموعہ "روی کی تجلیات" بھی شائع ہوئے، روی پرکاش بھاردواج نے صرف تخلیقی ادب تک اپنی خدمات کو محدود نہیں رکھا بلکہ ادبی تنظیموں کے قیام اور فروغِ ادب میں بھی نمایاں کردار ادا کیا، وہ بزمِ چکبست، جودھپور اور لٹریچر کلب، گڑگاؤں کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں، روی پرکاش بھاردواج نے نعتیہ شاعری میں بھی اپنی عقیدتِ رسولِ اکرم کا والہانہ اظہار کیا، ان کا نعتیہ کلام محبتِ مصطفیٰ، ادبِ رسالت اور روحانی وارفتگی کے جذبات سے سرشار ہے۔