روی پرکاش بھاردواج کا تعارف
روی پرکاش بھاردواج پنڈت ستیہ نارائن بھاردواج کے صاحبزادے تھے، ان کی ولادت 20 اگست کو گوڑگاؤں میں ہوئی، ابتدائی تعلیم کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا، تعلیم مکمل کرنے کے بعد مختلف تجارتی اداروں میں خدمات انجام دیں، تاہم عملی مصروفیات کے باوجود ادب سے ان کا تعلق ہمیشہ قائم رہا، شاعری میں انہیں کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کی شاگردی کا شرف حاصل تھا، انہوں نے غزل کے ساتھ دیگر اصنافِ سخن میں بھی کامیاب طبع آزمائی کی، ان کا شعری مجموعہ "روی کی کرنیں" 1971ء میں شائع ہوا، اسی سال 16 مئی کو جودھپور میں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں "جشنِ روی" کا انعقاد کیا گیا جو ان کی مقبولیت اور ادبی مقام کا واضح ثبوت ہے، روی پرکاش بھاردواج نے دوہے، قطعات اور نعتیہ شاعری بھی کہی، ان کے نعتیہ کلام میں حضرت رسول اللہ سے عقیدت و محبت کا اظہار نہایت سادہ، پُرخلوص اور مؤثر انداز میں ملتا ہے، ادبی تنظیموں کے قیام اور فروغِ ادب میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں، وہ بزمِ چکبست، جودھپور اور اردو لٹریری کلب، گوڑگاؤں کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔