Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

تنویر احمد سوز

ایک خوش فکر نعت گو شاعر ہیں جن کی شاعری میں سادگی، سوز اور عشقِ رسول کی روحانی کیفیت نمایاں ہے۔

ایک خوش فکر نعت گو شاعر ہیں جن کی شاعری میں سادگی، سوز اور عشقِ رسول کی روحانی کیفیت نمایاں ہے۔

تنویر احمد سوز کا تعارف

تخلص : 'سوز'

اصلی نام : تنویر احمد

تنویر احمد سوزؔ ایک سنجیدہ مزاج، صاحبِ فکر اور قادرالکلام نعت گو شاعر ہیں، جن کی شاعری میں عقیدت، محبتِ رسول اور فکری گہرائی کا حسین امتزاج پایا جاتا ہے، ان کا شعری ذوق محض جذباتی اظہار تک محدود نہیں بلکہ اس میں شعور و ادراک کی ایک واضح جھلک بھی نظر آتی ہے، انہوں نے اپنے نعتیہ مجموعے کا نہایت بامعنی اور پُر اثر نام "جسم کراچی، روح مدینہ" رکھا، جو ان کے داخلی کرب، روحانی وابستگی اور مدینۂ منورہ سے قلبی تعلق کا بھرپور عکاس ہے، تنویر احمد سوز کی نعتیہ شاعری کا سب سے نمایاں وصف اس کی سادگی اور دل نشینی ہے، وہ مشکل الفاظ یا پیچیدہ تراکیب کے بجائے سہل اور عام فہم زبان کا استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث ان کا کلام براہِ راست قاری کے دل میں اتر جاتا ہے، ان کے اشعار میں ایک فطری روانی پائی جاتی ہے جو نہ صرف حسنِ بیان کو بڑھاتی ہے بلکہ جذبے کی شدت کو بھی مؤثر انداز میں منتقل کرتی ہے، ان کی نعتوں میں تصنع یا بناوٹ کا شائبہ نہیں ملتا بلکہ ایک خلوص بھرا لہجہ اور سچی محبت کی جھلک ہر مصرعے میں نمایاں ہوتی ہے، مزید برآں ان کے ہاں عشقِ رسول کا اظہار محض روایتی انداز میں نہیں بلکہ ایک داخلی تجربے اور روحانی کیفیت کے طور پر سامنے آتا ہے، وہ اپنی ذات کے کرب، زمانے کی بے حسی اور روحانی خلا کو مدینہ کی نسبت سے پُر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کی نعتیہ شاعری میں درد و سوز کے ساتھ ساتھ ایک امید اور سکون کی کیفیت بھی محسوس ہوتی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے