Font by Mehr Nastaliq Web

صوفی اورسنتوں کی فہرست

سیکڑوں شاعروں کا منتخب کلام

ایک ممتاز مدرس، ہمہ جہت شاعر اور اظہر قادری کے شاگرد تھے۔

تحیر شاہ وارثی کے صاحبزادے

اردو کے ممتاز شاعر تھے، وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے اور نوح ناروی سمیت کئی اہلِ فن سے اصلاحِ سخن لی، ان کا شعری مجموعہ "کیفِ سرمدی" جبکہ "انوارِ حقیقت" اور "انوارِ تصوف" ان کی اہم تصانیف ہیں۔

اردو و فارسی کے شاعر تھے، عربی سے بھی واقفیت رکھتے تھے اور غزل، قصیدہ و نعت سمیت مختلف اصناف میں شاعری کی، جس میں مذہبی عقیدت نمایاں ہے۔

ٹونک کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، انہوں نے اسد لکھنوی اور بعد ازاں امیر مینائی سے اصلاح لی، غزل، قصیدہ اور نعت میں طبع آزمائی کی، تاہم نعت گوئی میں انہیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ ان کا نعتیہ مجموعہ ’’وسیلۂ شفاعت‘‘ 1906ء میں شائع ہوا۔

ہومیو پیتھک کے ماہر

کرتارپور کے شاعر تھے، جوش ملسیانی کے شاگرد رہے، پنجاب یونیورسٹی سے بی۔اے اور بنارس ہندو یونیورسٹی سے ایل۔ٹی کیا اور نعتیہ عقیدت کا اظہار کیا۔

ممتاز محقق، دیوان غالب زمانی لحاظ سے مرتب کرنے کے لیے معروف

حاجی وارث علی شاہ کے فقیر حافظ پیاری کے داماد تھے

کھتری اروڑا خاندان کے شاعر و صاحبِ علم تھے، جوش ملسیانی کے شاگرد، ’’کمالِ سخن‘‘ کے مصنف اور نعت گو شاعر تھے۔

بدایوں کے شاعر، طبیب اور نعت گو تھے، انہوں نے نواب زین العابدین خاں عارف دہلوی سے اصلاح لی اور اپنی نعتیہ شاعری کے لیے شہرت حاصل کی۔

’’آپ کو پاتا نہیں جب آپ کو پاتا ہوں میں‘‘ لکھنے والے شاعر

اسلامیہ انٹر کالج، شاہ جہان آباد کے مدرس اور شاغل وجدانی کے شاگرد

سیالکوٹ کے شاعر تھے، جن کا شعری سفر لاہور سے شروع ہوا، ان کے مجموعۂ ’’چند یادیں‘‘ (1978ء) میں چار نعتیں شامل ہیں جو ان کی عقیدتِ رسول کی عکاس ہیں۔

اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کے کلام میں عشقِ رسول، سوز و گداز اور سادگیِ بیان نمایاں ہے۔

بولیے