تلاش کے نتائج
تلاش کا نتیجہ "billaa"
انتہائی متعلقہ نتائج "billaa"
راگ آدھارت پد
راگنی گرجری چوتال - یہ کمال کدرت کادر تیری سوت ہی کہو یل لی یلا
تان سینؔ پربھو پیے بلا بلا بلا سم بلا
تان سین
فارسی صوفی شاعری
اے امیر کارواں اے شاہ خوباں بوالعلایک نگاہ لطف کن سوئے غریباں بوالعلا
ڈاکٹر شمیم گوہرؔ
تمام
لغت سے متعلق نتائج
تمام
کتاب کے متعلقہ نتیجہ "billaa"
مزید نتائج "billaa"
صوفی اقوال
قناعت فضول چیزوں سے نکل جانے اور بقدرِ حاجت پر اکتفا کرنے اور کھانے پینے اور رہنے کی چیزوں میں اسراف سے پرہیز کو کہتے ہیں۔
خواجہ باقی باللہ
صوفی اقوال
اگر کوئی سالک مقامِ معصیت میں پھنسا ہوا ہے یا دنیا کی طرف اس کی رغبت ہے اس کا سبب ان چند اسباب میں سے کوئی ایک ضرور ہوگا۔
خواجہ باقی باللہ
صوفی اقوال
اعتقاد درست، رعایت احکام شریعت، اخلاص اور دوام توجہ بجناب حق عظیم ترین نعمت ہے، اس نعمتِ عظمیٰ کے برابر کوئی ذوق و وجدان نہیں۔
خواجہ باقی باللہ
صوفی اقوال
دوامِ مراقبہ بڑی دولت ہے کہ اس سے دلوں میں قبولیت پیدا ہوتی ہے اور دلوں میں قبولیت پیدا ہونی خدا کی قبولیت کی نشانی ہے۔
خواجہ باقی باللہ
صوفی اقوال
خدا کی جانب متوجہ ہونے والوں کو کشف مطلق درکار نہیں کیوں کہ کشف دو قسم کا ہے ایک دنیوی وہ تو بالکل ہی غیر ضروری ہے دوسرا اخروی وہ کتاب و سنت میں واضح طور پر خود موجود ہے، عمل کے لیے وہی کافی ہے اور کوئی کشف اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
خواجہ باقی باللہ
صوفی اقوال
معرفت کے بہت سے درجات ہیں، اگر سالک حقائق سے حصہ وافر رکھتا ہے فبھا ورنہ اصل کار شریعت پر قائم رہنا ہے۔
خواجہ باقی باللہ
صوفی اقوال
توکل کے یہ معنی نہیں کہ ترکِ اسباب کر کے بیٹھ جائے، یہ خود بے ادبی ہے لیکن کتابت وغیرہ کا کوئی سبب یعنی پیشہ مقرر کر لے، سبب پر نظر رکھنی چاہیے، سبب کو مثل دروازہ کے خیال کرنا چاہیے کہ خدا نے واسطے حصولِ سبب کے مقرر کیا ہے۔
خواجہ باقی باللہ
صوفی اقوال
جو لوگ خدا کے آگے گردنِ تسلیم و رضا خم کئے ہوئے ہیں وہ مصیبت و بلا کو بلا کی صورت میں نہیں دیکھ سکتے۔
خواجہ باقی باللہ
صوفی اقوال
ہر امکان سے حرام یا نا جائز چیزوں سے پرہیز کرنا اور اپنے دل کو تمام ذلیل اور برے اخلاق سے پاک کرنا، حقیقی عشق کی طلب کو بڑھاتا ہے، ہمیشہ کوشش کرو کہ حرام یا جن میں شک ہو، ان نوالوں سے دور رہو، نفس کی مذمت کے لائق چیزوں جیسے غصہ، بدخلاقی، بے حساب جسمانی خواہشات اور دوسری چیزوں کو ظاہر نہ ہونے دو، جب تک تم خدا کی مدد کے طالب نہیں بنو گے، ان سے چھٹکارا نہیں پا سکتے، اس لیے ہمیشہ فرماں بردار اور عجز بنے رہو۔
ہر امکان سے حرام یا نا جائز چیزوں سے پرہیز کرنا اور اپنے دل کو تمام
خواجہ باقی باللہ
صوفی اقوال
تاج الدین ! اہلِ سنبھل سے طعن و تشنیع کا خیال نہ کرو، ان بچاروں پر رحم کھاؤ کیوں کہ وہ لوگ استقامت عقل سے ہٹ گئے ہیں، الحمد اللہ کہ ملامت سننا صوفیہ کا خاص حصہ ہے، میں خود اس معاملہ میں ایک مستقل نظریہ رکھتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جب کوئی ملامت کرتا ہے تو اپنے اندر غور کرتا ہوں اس وقت مجھے اپنی ایک نہ ایک بد صفتی ضرور نظر آتی ہے اور اس ملامت کو اپنے حق میں موعظت تصور کرتا ہوں، تم بتاؤ سہی کہ اہلِ سنبھل کی ملامت سے تمہارا کیا بگڑ جائے گا؟ کیا تمہاری عبادت قبول نہ ہوگی یا تمہاری صفائی قلب بر طرف ہو جائے گی یا درگاہِ خداوندی سے تم کو رد کر دیا جائے گا۔
تاج الدین ! اہلِ سنبھل سے طعن و تشنیع کا خیال نہ کرو، ان بچاروں پر
خواجہ باقی باللہ
صوفی اقوال
جب مشائخ مخلوق خدا کو گمراہی پر ڈٹا ہوا دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی جانتے ہیں کہ گمراہی عذاب کا باعث بن جائے گی تو اپنی انتہائی رحم دلی کی بنا پر عذاب کو ان سے دفع کرنے کی فکر کرتے ہیں، پس شفقت کا مقتضا یہ ہوتا ہے کہ ترویج و اشاعت کو لازم پکڑ کر مخلوقِ خدا کو وعظ و نصیحت کے ذریعہ حفظ آداب و اقامت شرع کا آمر بن کر مثلاً فقہ و حدیث کے تعلیم و تعلم کا امر کریں، شرع پر پابندی کے ساتھ عمل کرنے کا مشورہ دیں لیکن یہ بات بھی ہے کہ مشائخ کاکام یہ نہیں ہے کہ وہ واصل بھی کر دیں یہ امر شفقت کے لیے لازم اور ضروری نہیں ہے بلکہ امرِ زائد ہے، اس طریقہ نقشبندیہ کا حاصل کار یہ ہے کہ انجذاب ایمانی کی تربیت کریں، تمام انبیا و رسل کی دعوت کا یہی طریقہ تھا۔
جب مشائخ مخلوق خدا کو گمراہی پر ڈٹا ہوا دیکھتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی
