تلاش کا نتیجہ "mahtab e dagh ma zameema yadgar e dagh dagh dehlvi ebooks"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
ابروئے یار مطلع اول ہے جس کو دیکھمطلع کہے ہیں یاروں نے اس کے جواب میں
پیر مغاں کے پائے ناز اور مرا سر نیازہوتی ہے مے کدہ میں روز اپنی یوں ہی نماز عشق
فوقؔ میں درد کا قائل ہو رہا پہلو میںاور کوئی بھی شریک شب ہجراں نہ ہوا
تجھ کو جلوہ گہہ ناز میں روکا تھاماحوصلہ دیکھ لیا اپنے تماشائی کا
فروغ حسرت و غم سے جگر میں داغ رکھتا ہوںمرے گلشن کی زینت دور ہنگام خزاں تک ہے
اس بلبل اسیر کی حسرت پہ داغ ہوںمر ہی گئی قفس میں سنی جب صدائے گل
یہ قسمت داغ جس میں درد جس میںوہ دل ہو لوٹ دست نازنیں پر
ساقیٔ خمخانۂ توحید نےدل کو مست جام عرفاں کر دیا
تم اپنی زلف کھولو پھر دل پر داغ چمکے گااندھیرا ہو تو کچھ کچھ شمع کی آنکھوں میں نور آئے
سینہ صاف میں نہیں ہے داغآئینے میں چراغ جلتا ہے
چشم تر لخت دل سوزاں سے آنسو کو بجھاطفل ابتر ڈال دے ہے ہاتھ اکثر ہاتھ میں
دل و غم میں اور سینہ و داغ میںرفاقت کا یاں عہد و پیمان ہے
باقی ہے آدھی رات مگر اس کا کیا جوابگھبرا کے وہ یہ کہتے ہیں وقت اذاں ہے اب
آتش سے گل کی داغ مگر عشقؔ کھائے تھےآئی جو پیشوا تجھے لینے کو نو بہار
اب تم بھی ذرا حسن جہاں سوز کو روکوہم تو دل بے تاب کو سمجھائے ہوئے ہیں
ارے او چرخ دینے کے لیے داغبہت ہیں چاند کے ٹکڑے زمیں پر
اس ادا سے میں نے دیکھے داغ اپنے خون کےاک تماشا روز محشر ان کا داماں ہو گیا
مظہر نور دیں معین الدینآفتاب زمیں معین الدین
آرزو ہے وفا کرے کوئیجی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی
ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لیناکن انکھیوں سے اس کو مگر دیکھ لینا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books