اسیر لکھنوی کا تعارف
تخلص : 'اسیر'
اصلی نام : مظفر علی خان
وفات : 01 Feb 1882 | اتر پردیش, بھارت
رشتہ داروں : الٰہی بخش نازش (مرشد), امیر مینائی (مرید)
غلام علی ہمدانی مصحفی کے تلامذہ میں شہرت کے اعتبار سے خواجہ حیدر علی آتش کے بعد اسیر لکھنوی کا نام نہایت نمایاں اور بلند مقام رکھتا ہے، ان کا اصل نام مظفر علی اور تخلص اسیر تھا، انہیں نواب واجد علی شاہ کی جانب سے تدبیرالدولہ اور مدبرالملک کے خطابات سے نوازا گیا، اسیر - سید مدد علی مائل امیٹھوی کے فرزند تھے اور ان کا سلسلۂ نسب حضرت عباس علمبردار تک پہنچتا ہے، ان کی ولادت قصبہ امیٹھی میں ہوئی، ان کا تاریخی نام مظفر ہے، جس سے سنِ ولادت 1220ھ برآمد ہوتا ہے، وہ مصحفی کے شاگرد تھے اور اپنے استاد سے فیضیاب ہوئے، اسیر ایک مشاق، زودگو اور قادرالکلام شاعر تھے، فنِ عروض میں انہیں یگانۂ روزگار کا درجہ حاصل تھا اور ان کی فنی مہارت مسلمہ تھی، 17 ربیع الاول 1299ھ مطابق 7 فروری 1882ء کو ان کا انتقال ہوا، ان کے شاگردوں کی فہرست نہایت طویل اور قابلِ فخر ہے جن میں امیر مینائی سرفہرست ہیں، ان کے علاوہ ریاض خیرآبادی، پنڈت رتن ناتھ سرشار، احمد علی شوق قدوائی، میر نواب موزوں، میر بندہ حسین عالی، شیخ رمضان علی ابر، میر الٰہی بخش نازش، منشی سید تفضل حسین، احمد حسین خاں جوش، یوسف علی خاں والیِ رامپور، نواب سراج الدولہ محمد علی خاں جنوں، سید افضل علی افضل اور یوسف حسین خاں طباطبائی وغیرہ شامل ہیں، اسیر لکھنوی نے اپنے عہد میں نہ صرف خود اعلیٰ پایہ شاعری کی بلکہ ایک بڑے دبستانِ سخن کی تشکیل میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔