Font by Mehr Nastaliq Web
Aseer Lakhnavi's Photo'

اسیر لکھنوی

1800 - 1882 | لکھنؤ, بھارت

مصحفی کے نامور شاگرد، فنِ عروض کے امام اور امیر مینائی جیسے عظیم شعرا کے استاد تھے۔

مصحفی کے نامور شاگرد، فنِ عروض کے امام اور امیر مینائی جیسے عظیم شعرا کے استاد تھے۔

اسیر لکھنوی کے اشعار

بہار لالہ و گل زلف سبزہ و سنبل

مزہ تھا ہم جو گلستان میں آج کل جاتے

دکھاتا اتنی تو تاثیر گریہ یعقوب

دیار مصر میں اندھے کنویں ابل جاتے

اسیرؔ آنکھ دکھاتا اگر ہمیں صیاد

قسم تو کیا قفس جسم سے نکل جاتے

چراغ خوب ہوا میرے قبر پر نا جلا

ادھر ادھر کے پتنگے غریب جل جاتے

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے