Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

اشرف علی تھانوی

سہارنپور, بھارت

اشرف علی تھانوی کے صوفی اقوال

آدمی صرف خدا کا بندہ ہو اور اسی کے احکام کی اتباع کرے، اس لیے کہ خدا کا کلام سب سے زیادہ کامل ہے کیوں کہ حالات کا سب سے زیادہ علم اسی کو ہے۔

ہماری اصل تو خاک ہے، لہٰذا ہم کو خاک بن کر رہنا چاہیے، مٹی ہوکر تکبر کرنا نہایت ہی نازیبا ہے۔

تصوف خدا سے تعلق بڑھاتا ہے، اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔

حر تمام بیماریوں کی جڑ ہے، یہ ایسا مرض ہے کہ اس کو ام الامراض کہنا چاہیے کیوں کہ اسی کی وجہ سے جھگڑے فساد ہوتے ہیں۔

موت کو کثرت سے یاد کیا کریں اور مدتوں کے لیے منصوبے اور سامان نہ کریں اور نہ سوچیں۔

بزرگوں کے ناموں سے بھی روح میں تازگی اور قلب میں نور پیدا ہوتا ہے۔

بزرگانِ دین اور اؤلیائے کرام خدا و رسول کے عاشق ہیں، اس لیے ممکن نہیں کہ ان کے حالات پڑھے جائیں اور قلب میں محبتِ الٰہی پیدا نہ ہو۔

میں تو کہا کرتا ہوں کہ بزرگ بننا ہو، ولی بننا ہو، قطب بننا ہو تو کہیں اور جاؤ اگر انسان بننا ہو تو میرے پاس آؤ۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے