Font by Mehr Nastaliq Web
Ghamgin Dehlvi's Photo'

غمگین دہلوی

1753 - 1851 | دہلی, بھارت

ایک صاحبِ حال صوفی اور قادرالکلام شاعر تھے، جن سے مرزا غالب کو بھی عقیدت تھی۔

ایک صاحبِ حال صوفی اور قادرالکلام شاعر تھے، جن سے مرزا غالب کو بھی عقیدت تھی۔

غمگین دہلوی کا تعارف

تخلص : 'غمگین'

اصلی نام : علی

پیدائش :دہلی

وفات : مدھیہ پردیش, بھارت

غمگین دہلوی جن کا پورا نام میر علی تھا، 1753ء میں دہلی میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے دوران انہوں نے قرآنِ مجید اور فارسی کی چند مستند کتابوں کا مطالعہ کیا لیکن جلد ہی ان کا دل رسمی درسی تعلیم سے اچاٹ ہوگیا اور وہ حق کی جستجو میں نکل کھڑے ہوئے، اسی جستجو کے تحت انہوں نے میر فتح علی کے دستِ حق پرست پر بیعت کی اور سخت مجاہدات و ریاضت کے مراحل طے کرنے کے بعد روحانی کمالات سے بہرہ ور ہوئے، 1815ء میں انگریزوں کے عتاب اور ان کے اقتدار سے بیزار ہو کر انہوں نے دہلی کو خیرآباد کہا اور گوالیار میں سکونت اختیار کر لی، جہاں انہوں نے اپنی بقیہ زندگی روحانی مشاغل اور ادبی تخلیقات میں صرف کی۔
غمگین کے اردو کلام کے دو اہم مجموعے "دیوانِ غزلیات" اور "مخزن الاسرار" ہیں جو ان کے شعری ذوق اور فکری گہرائی کے آئینہ دار ہیں، ان کا ایک عظیم الشان کارنامہ "دیوانِ مکاشفات الاسرار" ہے، جس میں تقریباً 1800 رباعیات شامل ہیں، رباعی گوئی کے میدان میں غمگین کا مقام نہایت بلند ہے اور اس درجے کا قادرالکلام رباعی گو شاعر شاذ ہی نظر آتا ہے، ان کے اس مجموعۂ رباعیات کا دیباچہ غالب کے نام منسوب ہے، جسے 1255ھ میں مرتب کیا گیا۔

موضوعات

Recitation

بولیے