Font by Mehr Nastaliq Web
Rumi's Photo'

رومی

1207 - 1273 | قونیہ, ترکی

مشہور فارسی شاعر، مثنوی معنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریزی کے مصنف، آپ دنیا بھر میں اپنی لازوال تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، آپ کا مزار ترکی میں واقع ہے۔

مشہور فارسی شاعر، مثنوی معنوی، فیہ ما فیہ اور دیوان شمس تبریزی کے مصنف، آپ دنیا بھر میں اپنی لازوال تصنیف مثنوی کی بدولت جانے جاتے ہیں، آپ کا مزار ترکی میں واقع ہے۔

رومی کے صوفی اقوال

3.5K
Favorite

باعتبار

اپنی ہوشیاری بیچ دو اور حیرت خرید لو۔

درد کی دوا خود درد میں ہے۔

اپنے الفاظ کو اونچا کرو اپنی آواز کو نہیں، بارش سے پھول اگتے ہیں بجلی سے نہیں۔

خاموشی خدا کی زبان ہے اور باقی سب ایک خراب ترجمہ ہے۔

وہ دشمن کتنا اچھا دشمن ہے جو اپنے عیبوں پر نگاہ رکھتا ہے اور اگر کوئی اسے اس کے عیبوں کے بارے میں بتائے تو تسلیم بھی کر لیتا ہے۔

پگھلتی ہوئی برف بنو، اپنے آپ کو اپنے آپ سے ہی دھو ڈالو۔

جب آپ کوئی کام روح کی گہرائیوں سے کرتے ہیں تو آپ اپنے جسم و جاں میں لطف و انبساط کا ایک دریا رواں محسوس کرتے ہیں۔

درویشوں کے علاوہ دنیا کے باقی لوگ بچوں کی مانند ہیں جو دنیا کے کھیل میں مگن ہیں۔

اے محبوبِ حقیقی! آپ کی محبت میں مجھ کو نعرۂ مستانہ بہت اچھا لگتا ہے، قیامت تک میں اسی دیوانگی اور وارفتگی کو محبوب رکھنا چاہتا ہوں۔

اس سے زیادہ خوش قسمت کون ہو سکتا ہے جو ایک جھیل کنارے آتا ہے اور پانی میں چاند کا عکس دیکھ لیتا ہے۔

تم زمین والوں پر مہربانی کرو، آسمان والا تم پر مہربان ہوگا تم بہادروں کے ہتھیار جسم پر سجا لو لیکن اگر تم ان کے اہل نہیں تو یہ تمہارے لیے مصیبت جان ہے۔

محبت کے اظہار کے معاملے میں عقل کا کوئی زور نہیں۔

جب دروازہ کھلا ہوا ہے تو تم اس طرح قید خانے میں کیوں پڑے ہو۔

یپاس مجھے کھینچ کر نیچے گہرائی میں پانی تک لے گئی جہاں میں نے چاندنی پی لی۔

سورج کی تعریف در اصل اپنی آنکھوں کی تعریف ہے۔

ہر فرد کسی خاص مقصد کے لیے پیدا ہوتا ہے اور اس وقت کے حصول کی خواہش پہلے ہی سے اس کے دل میں رکھ دی جاتی ہے۔

صرف رسمی تعلیم کا مقصد روحوں کو تباہ کرنا ہے۔

جس کے افعال شیطان اور درندروں جیسے ہوتے ہیں کریم لوگوں کے متعلق اس کو بدگمانی ہوتی ہے۔

اپنے ارد گرد رونما ہونے والی باتوں کا مشاہدہ کرو لیکن ان کا دعویٰ مت کرو، متحرک صناعی قدرت دیکھو اور خاموش رہو۔

جب تو کوئی غم دیکھے تو استغفار کر، غم خالق کے حکم سے آتا ہے تو اپنے کام میں لگا رہ۔

یہ دنیا تمہاری جانوں کا قید خانہ ہے، خبردار! اس جانب دوڑو جو خدا کا میدان ہے، اس لیے کہ یہ عالم محدود اور خدا لا محدود ہے۔

زہین خود مختاری اور پچہ مٹھائی چاہتا ہے۔

جو علم تجھے تجھ سے نہ لے لے اس علم سے جہل بہتر ہے۔

اگر تو چاہتا ہے کہ دن کی طرح روشن ہو جائے تو اپنی ہستی کو اپنے دوست کے سامنے جلا ڈال۔

دنیا دار لوگ اپنے گریباں میں نہیں جھانکتے اس لیے دوسروں پر تہمت لگاتے ہیں۔

کیا ہی اچھا ہے وہ دشمن جو اپنے عیب پر نظر رکھتا ہے اور اگر کوئی اس کے عیب کو بتاتا ہے تو وہ تسلیم کر لیتا ہے۔

زندگی کے لمحات کو غنیمت جانو! بہت جلد یہ تم سے چھن جائیں گے۔

لا زوال خوبصورتی صرف دل کی خوبصورتی ہے۔

جو شخص رہ دکھانے والے کے بغیر سفر کرتا ہے وہ دو دن کے سفر میں دو سو سال لگا دیتا ہے۔

تم سائے کو متبادل جسم سمجھ لیتے ہو۔

اگر کوئی کام روح سے کیا جاتا ہے تو اس سے دل میں خوشی کی ایک ندی بہتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔

میانہ روی یعنی درمیانی راہ ہی عقلمندی ہے۔

وفا ایک ایسا دریا ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا۔

ہستی کا آئینہ فنا ہے، فنا اختیار کر تاکہ تو ہستی کو دیکھ لے۔

جس خوبصورتی سے ہم پیار کرتے ہیں اس خوبصورتی کو اپنے عمل میں ڈھال لینا چاہیے۔

اپنے آپ خاموشی کے ساتھ اس بھر پورکشش کی جانب کھنچنے دو جس سے تم حقیقی پیار کرتے ہو۔

اچھابو لنے کے لیے پہلے اچھا سننا ضروری ہے، ایک انسان کو پہلے سننا چاہیے اور اسی سے بولنے کا فن سیکھنا چاہیے۔

دو قسم کے لوگ کبھی مطمئن نہیں ہوتے، دنیا چاہنے والا اور علم چاہنے والا۔

دشمن ہمیشہ دماغ کے منتخب کرو اور دوست ہمیشہ کردار کے۔

زمین آسمان کے آگے سرنگوں ہے اور اس کی طرف سے جو کچھ آتا ہے قبول کرتی ہے، مجھے بتاؤ! کیا زمیں اسی طرح دینے کی وجہ سے بری ہے۔

وسوسوں سے پرہیز کرو کیوں کہ اس جنگل میں شیر ہیں۔

بہت سے لوگ آگ سے بچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور انجام کار اس میں جا گرتے ہیں۔

وسوسے کی روئی کان سے باہر نکال تاکہ تیرے کانوں میں آسمانی آوازیں آنے لگیں۔

ہم پیاسا ہونے اور پانی کی پکار کی جانب بڑھنے سے اپنے آپ کو روک نہیں سکتے۔

اگر بیکار پتھر ہے تو کسی صاحبِ علم کے پاس جا گوہر بن جائے گا۔

ڈر کی سوچ اور کشمکش سے باہر نکلو اور خاموشی میں زندہ رہو۔

جس شخص کا خدا خود نگہبان ہو اس کا تحفظ مرغ و ماہی بھی کرتے ہیں۔

کب بندہ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ خدا کی آزمائش اور امتحان کی جرأت کرے۔

جب خدا ہماری مدد کرنا چاہتا ہے تو ہمیں انکساری کی طرف مائل کر دیتا ہے، محبت کی تلاش آپ کاہدف نہیں بلکہ آپ کا ہدف ان رکاوٹوں کو تلاش کرنا ہے جو آپ نے اس جذبے کے خلاف کھڑی کر لی ہیں۔

بے وقوف کی صحبت سے تنہائی بہتر ہے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے