تمام
ای-کتاب23
ویڈیو 3
تعارف
فارسی کلام18
فارسی صوفی شاعری4
صوفیوں کی حکایتیں244
بیت80
صوفی اقوال195
قطعہ1
سعدی شیرازی کے صوفی اقوال
سمندر کی گہرائیوں میں بے شمار خزانے چھپے ہیں مگر اگر تمہیں حفاظت چاہیے تو وہ کنارے پر ہے۔
اگر کسی فقیر کے پاس ایک روٹی ہوتی ہے تو وہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی کسی غریب کو دے دیتا ہے لیکن اگر کسی بادشاہ کے پاس ایک ملک ہوتا ہے تو وہ ایک ملک اور چاہتا ہے۔
جو شخص غرور اور دکھاوے کے لیے اپنی گردن اونچی کرتا ہے، وہ خود منہ کے بل گر جاتا ہے۔
یہ جاہلوں کا طریقہ ہے کہ جب کوئی دلیل مقابل کے آگے نہ چل سکے تو لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔
اگر کسی فقیر کے پاس ایک روٹی ہوتی ہے تو وہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی کسی غریب کو دے دیتا ہے لیکن اگر کسی بادشاہ کے پاس ایک ملک ہوتا ہے تو وہ ایک اور ملک چاہتا ہے۔
جس کو ایک مدت کے لیے دوست بنا مناسب نہیں کہ اس کو ایک لمحہ میں رنجیدہ کر دیں، اس سے لا تعلقی بھی آہستہ آہستہ ہونی چاہیے یک دم نہیں۔
انسانوں پر ظلم کرنے والے سے زیادہ بد نصیب کوئی نہیں، کیوں کہ جب اس پر مصیبت پڑتی ہے تو اس کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔
جس کے سر میں غرور ہو اس کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ سچی بات سن لے گا۔
اگر کسی کو تھوڑا کھانے کی عادت ہے تو وہ سختی کے دن آسانی سے گذار سکتا ہے اور اگر فراغی کے دنوں میں تن پرور ہو تو تنگی میں سختی سے مرتا ہے۔
جو کوئی اپنی کمائی سے روٹی کھاتا ہے اسے حاتم طائی کا احسان اٹھانا نہیں پڑتا۔
زبان کٹا ہوا اور گوشہ تنہائی میں بہرا گونگا بن کر بیٹھا ہوا انسان اس سے بہتر ہے جس کی زبان قابو میں نہ ہو۔
یہ ضروری نہیں کہ جو خوبصورت ہو نیک سیرت بھی ہوگا کیوں کہ کام کی چیز اندر ہوتی ہے باہر نہیں۔
برائی کا بدلہ برائی سے دینا آسان ہے اگر نوجوان مرد ہے تو برائی کا بدلہ احسان اور نیکی سے دے۔
بھوک اور مسکینی میں زندگی گزارنا کسی کمینے کے سامنے دست سوال کرنے سے بہتر ہے۔
اگر کوئی مانگنے والا عاجزی سے تجھ سے مانگے تو اس کو دے دے ورنہ کوئی ظالم زور سے لے لے گا۔
تین چیزوں کی بقا نہیں ہے، مال کو تجارت کے بغیر، علم کو بحث کے بغیر اور مالک کو تدبیر کے بغیر۔
لوگوں کے چھپے عیب ظاہر نہ کر کیوں کہ تو ان کو ذلیل کرے گا اور خود کو بھروسے کے نا قابل بنائے گا۔
بادشاہوں کو وہی شخص نصیحت کر سکتا ہے جس کو نہ سر کا خوف ہو نہ زر کی تمنا اور لالچ یعنی بے خوف و خطر آدمی۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere