Font by Mehr Nastaliq Web
Saadi Shirazi's Photo'

سعدی شیرازی

1210 - 1291

ایران کے ایک بڑے معلم، آپ كى دو كتابيں گلستاں اور بوستاں بہت مشہور ہيں، پہلى كتاب نثر ميں ہے جبكہ دوسرى كتاب نظم ميں ہے-

ایران کے ایک بڑے معلم، آپ كى دو كتابيں گلستاں اور بوستاں بہت مشہور ہيں، پہلى كتاب نثر ميں ہے جبكہ دوسرى كتاب نظم ميں ہے-

سعدی شیرازی کے صوفی اقوال

171
Favorite

باعتبار

سمندر کی گہرائیوں میں بے شمار خزانے چھپے ہیں مگر اگر تمہیں حفاظت چاہیے تو وہ کنارے پر ہے۔

اگر کسی فقیر کے پاس ایک روٹی ہوتی ہے تو وہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی کسی غریب کو دے دیتا ہے لیکن اگر کسی بادشاہ کے پاس ایک ملک ہوتا ہے تو وہ ایک ملک اور چاہتا ہے۔

جو شخص غرور اور دکھاوے کے لیے اپنی گردن اونچی کرتا ہے، وہ خود منہ کے بل گر جاتا ہے۔

دوڑنا ضروری نہیں بر وقت چل پڑنا چاہیے۔

میں خدا سے ڈرتا ہوں اور اس شخص سے ڈرتا ہوں جو خدا سے نہیں ڈرتا۔

جو نصیحت نہیں سنتا وہ ملامت سننے کا عادی ہوتا ہے۔

آہستہ آہستہ مگر مسلسل چلنا کامیابی کی علامت ہے۔

یہ جاہلوں کا طریقہ ہے کہ جب کوئی دلیل مقابل کے آگے نہ چل سکے تو لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔

بدوں کے ساتھ نیکی کرنا اتنا ہی برا ہے جتنا نیکیوں کے ساتھ بدی کرنا۔

کوئی شخص روزی اپنی لیاقت اور طاقت سے نہیں حاصل کرتا، خدا سب کا رازق ہے۔

اگر کسی فقیر کے پاس ایک روٹی ہوتی ہے تو وہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی کسی غریب کو دے دیتا ہے لیکن اگر کسی بادشاہ کے پاس ایک ملک ہوتا ہے تو وہ ایک اور ملک چاہتا ہے۔

استاد کی سختی باپ کے پیار سے بہتر ہے۔

جس کو ایک مدت کے لیے دوست بنا مناسب نہیں کہ اس کو ایک لمحہ میں رنجیدہ کر دیں، اس سے لا تعلقی بھی آہستہ آہستہ ہونی چاہیے یک دم نہیں۔

جب شراب انسان کے اندر داخل ہوتی ہے تو عقل کو باہر نکال دیتی ہے۔

جس شخص پر پیسہ کا لالچ چھا گیا، اسے زندگی کے کھلیان کو ہوا میں اڑا دیا۔

اے عقل مند ہاتھ دھو لے جو دشمنوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔

انسانوں پر ظلم کرنے والے سے زیادہ بد نصیب کوئی نہیں، کیوں کہ جب اس پر مصیبت پڑتی ہے تو اس کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔

دولت کو صدقہ جاریہ میں لگاؤ آخرت میں کام آئے گی۔

اگر چڑیوں میں اتحاد ہو جائے تو وہ شیر کی کھال اتار سکتی ہیں۔

جس کے سر میں غرور ہو اس کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ سچی بات سن لے گا۔

جس مظلوم کو بادشاہ سے انصاف نہ مل سکے اسے خدا انصاف دلاتا ہے۔

نصیحت اگر چہ نا خوشگوار ہوتی ہے لیکن اس کا انجام خوشگوار ہوتا ہے۔

اگر کسی کو تھوڑا کھانے کی عادت ہے تو وہ سختی کے دن آسانی سے گذار سکتا ہے اور اگر فراغی کے دنوں میں تن پرور ہو تو تنگی میں سختی سے مرتا ہے۔

جو کوئی اپنی کمائی سے روٹی کھاتا ہے اسے حاتم طائی کا احسان اٹھانا نہیں پڑتا۔

شر پھیلانے والا خود بھی شر میں پھنس جاتا ہے۔

اگر تجھے میری عادت ناگوار ہے تو تو اپنی اچھی عادت ہاتھ سے نہ جانے دے۔

اگر چڑیا متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال کھینچ سکتی ہیں۔

زبان کٹا ہوا اور گوشہ تنہائی میں بہرا گونگا بن کر بیٹھا ہوا انسان اس سے بہتر ہے جس کی زبان قابو میں نہ ہو۔

یہ ضروری نہیں کہ جو خوبصورت ہو نیک سیرت بھی ہوگا کیوں کہ کام کی چیز اندر ہوتی ہے باہر نہیں۔

برائی کا بدلہ برائی سے دینا آسان ہے اگر نوجوان مرد ہے تو برائی کا بدلہ احسان اور نیکی سے دے۔

جو سوچ سجھ کر بات نہیں کرتا، وہ جواب پاکر رنجیدہ ہوتا ہے۔

نیک انجام فقیر بد انجام بادشاہ سے بہتر ہے۔

بہت سے کام صبر سے نکلتے ہیں اور جلد باز منہ کے بل گرتا ہے۔

اس کی ہمت پر قربان جو نیک کام اخلاص سے کرتا ہے۔

اچھی عادات کی مالکہ عورت اگر فقیر کے گھر بھی ہو تو اسے بادشاہ بنا دیتی ہے۔

مذہب صرف لوگوں کی خدمت میں ہے، تسبیح اور مصلیٰ میں نہیں۔

بھوک اور مسکینی میں زندگی گزارنا کسی کمینے کے سامنے دست سوال کرنے سے بہتر ہے۔

اگر کوئی مانگنے والا عاجزی سے تجھ سے مانگے تو اس کو دے دے ورنہ کوئی ظالم زور سے لے لے گا۔

بسیار خور ہمیشہ ذلیل ہوتا ہے۔

اگر تم چاہتے ہو کے تمہارا نام زندہ رہے تو اولاد کو اچھے اخلاق سکھلاؤ۔

کمزوروں پر رحم نہ کھانے والا طاقتوروں سے مارکھاتا ہے۔

جو نصیحت نہیں سنتا اسے ملامت سننے کا شوق ہے۔

ظالم حکمران کو وہ ہی نصیحت کرسکتا ہے جسے نہ بیم سر ہو نہ امیدِ زر۔

دوست وہی ہے جو دوست کی پریشان حالی اور عاجزی کو دیکھ کر مدد کرے۔

تین چیزوں کی بقا نہیں ہے، مال کو تجارت کے بغیر، علم کو بحث کے بغیر اور مالک کو تدبیر کے بغیر۔

جو نصیحت غرض سے خالی ہو کڑوی دوا کی طرح مرض کی دافع ہے۔

لوگوں کے چھپے عیب ظاہر نہ کر کیوں کہ تو ان کو ذلیل کرے گا اور خود کو بھروسے کے نا قابل بنائے گا۔

جو نصیحت نہیں سنتا وہ ملامت سننے کا شوق رکھتا ہے۔

بادشاہوں کو وہی شخص نصیحت کر سکتا ہے جس کو نہ سر کا خوف ہو نہ زر کی تمنا اور لالچ یعنی بے خوف و خطر آدمی۔

اگر تو کسی ایک شخص کی بھی تکلیف دور کرے تو یہ زیادہ بہتر کام ہے، بہ نسبت اس کے کہ تو حج کو جائے اور راستہ کے ہر پڑاؤ پر ایک ہزار رکوع نماز پڑھتا جائے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے