شاہ ولی اللہ دہلوی
فارسی صوفی شاعری 1
صوفی اقوال 9
اے آدم کے بچو! تم نے ایسے بگڑے ہوئے رسوم اختیار کر لیے ہیں جن سے دین کی اصلی صورت بگڑ گئی ہے، تم عاشورا کے دن جھوٹی باتوں پر اکٹھے ہوئے ہو، اسی طرح شب برات میں کھیل کود کرتے ہو اور مردوں کے لیے کھانے پکا پکا کر کھلانے کو اچھا خیال کرتے ہو، اگر تم سچے ہو تو اس کی دلیل پیش کرو، تم نے اپنی نمازیں برباد کر رکھی ہیں، تم میں کچھ لوگ ہیں جو دنیا کمانے میں اور اپنے دھندوں میں اتنے پھنس گیے ہیں کہ نماز کا انہیں وقت ہی نہیں ملتا، اسی طرح بعضوں نے روزے بھی چھوڑ رکھے ہیں۔
تمہارا کیا حال ہے ہر بری بھلی بات، ہر رطب و یابس پر تمہارا ایمان ہے، لوگوں کو تم جعلی اور گڑھی ہوئی حدیثوں کا وعظ سناتے ہو، خدا کی مخلوق پر تم نے زندگی تنگ کر چھوڑی ہے، حالاں کہ تم تو اس لیے پیدا ہوئے تھے کہ لوگوں کو آسانیاں بہم پہنچاؤ گے نہ کہ دشواریوں میں مبتلا کرو گے، تم ایسے لوگوں کی باتیں دلیل میں پیش کرتے ہو جو بیچارے مغلوب الحال اور عشق و محبت الٰہی میں عقل و حواس کھو بیٹھے تھے، حالاں کہ اہلِ عشق کی باتیں وہیں کی وہیں لپیٹ کر رکھ دی جاتی ہیں نہ کہ ان کا چرچہ کیا جاتا ہے، چاہیے کہ مقام احسان کی طرف لوگوں کو بلاؤ پہلے اسے خود سیکھ لو پھر دوسروں کو دعوت دو۔
عام لوگوں سے مصاحبت میل جول دو شرطوں کی بجائے آوری کے ساتھ رکھو، ایک تو یہ کہ ان کے مال و دولت سے امید کو منقطع کر لو، جو تمہاری قسمت کا ہوگا وہ بغیر تمہارے قصد و ارادہ کے مل کر رہے گا اور دوسری شرط یہ کہ ہر شخص کے ساتھ خوش خلقی کا سلوک کرو خواہ وہ امیر ہو یا غریب، مشہور ہو یا گمنام اور جو شخص اس کے باوجود تم سے عداوت رکھے تو تم صبر کرو۔