عبدالحامد بدایونی کا تعارف
تخلص : 'حامد'
اصلی نام : عبدالحامد
پیدائش : 07 Dec 1900 | بدایوں, اتر پردیش
وفات : 30 Jul 1970 | سندھ, پاکستان
رشتہ داروں : عبدالماجد بدایونی (بھائی), شاہ عبدالمقتدر بدایونی (مرشد)
مولانا عبدالحامد ولدِ حکیم عبدالقیوم قادری، 14 جمادی الثانی 1318ھ مطابق 7 دسمبر 1900ء کو بدایوں کے ایک معزز علمی و دینی خانوادے مولوی ٹولہ کے عثمانی خاندان میں اپنے آبائی مکان پر پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے درسِ نظامی کی تکمیل اپنے برادرِ بزرگ مولانا عبدالماجد بدایونی کی زیرِ نگرانی مدرسہ قادریہ، بدایوں اور مدرسہ شمس العلوم، بدایونی سے حاصل کی، بعد ازاں وہ مدرسہ شمس العلوم کے مہتمم بھی مقرر ہوئے اور اس ادارے کی علمی و انتظامی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا، روحانی اعتبار سے انہیں مولانا عبدالمقتدر اور مولانا عبدالعزیز جیسے اکابر سے بیعت و خلافت حاصل تھی، جس نے ان کی دینی و تبلیغی زندگی کو ایک مستحکم بنیاد فراہم کی، اپنے برادرِ بزرگ مولانا عبدالماجد کے ہمراہ وہ سیاسی و سماجی سرگرمیوں میں بھی شریک رہے اور بتدریج آل انڈیا مسلم لیگ کے حامی و ہمنوا بن گئے، قیامِ پاکستان کے بعد 1947ء کے اواخر میں وہ کراچی منتقل ہوئے، جہاں انہوں نے دستور سازی کے عمل میں دیگر علما کے ساتھ فعال شرکت کی، 1953ء کی تحریکِ ختمِ نبوت کے دوران، جب اس تحریک کو خلافِ شرع اور خلافِ قانون قرار دے کر اس کے قائدین کے خلاف کارروائی کی گئی تو مولانا عبدالحامد کو بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، یہ امر ان کی دینی وابستگی اور اصولی استقامت کا مظہر ہے، مولانا عبدالحامد محض ایک سیاسی شخصیت نہ تھے بلکہ ایک مخلص مبلغِ اسلام بھی تھے، انہوں نے قیامِ پاکستان کے بعد جمعیۃ علمائے پاکستان کی بنیاد رکھی اور کراچی میں ایک دینی و تعلیمی ادارہ، جامعہ تعلیماتِ اسلامی قائم کیا جو بعد میں محض "بدایوں کالج" کے نام سے معروف رہ گیا، 20 جولائی 1970ء کو کراچی میں ان کا وصال ہوا اور وہ اپنے علمی، دینی اور سیاسی خدمات کا ایک روشن باب چھوڑ کر دارِ بقا کو سدھار گئے، ادبی حیثیت سے بھی مولانا عبدالحامد ایک ممتاز مقام رکھتے تھے، وہ نہایت فصیح اور معیاری اردو کے حامل ایک صاحبِ طرز نثر نگار اور خوش فکر نعت گو شاعر تھے، اگرچہ انہوں نے کثیر مقدار میں نعتیہ کلام کہا مگر سیاسی اور دینی مصروفیات کے باعث اسے باقاعدہ طور پر شائع نہ کر سکے، 1935ء میں نواب الٰہی بخش معروف دہلوی کے دیوان کی اشاعت ان ہی کی کاوشوں سے نظامی پریس، بدایوں سے عمل میں آئی جو ان کے ادبی ذوق اور خدمات کا ایک نمایاں ثبوت ہے، تذکرۂ اکابر اہلِ سنت پاکستان میں ان کی چودہ تصانیف کا ذکر ملتا ہے، اگرچہ ان کے مطبوعہ یا غیر مطبوعہ ہونے کی صراحت نہیں کی گئی، اس کے باوجود ان کی علمی، دینی اور ادبی خدمات انہیں اپنے عہد کے ایک باوقار اور ہمہ جہت شخصیت کے طور پر ممتاز کرتی ہیں۔