عبدالرزاق خان طالبؔ کا تعارف
عبدالرزاق خاں بن عبدالعزیز خاں پٹھان تھے اور ان کا مکان مردان خاں کے گھیر کے قریب واقع تھا، ولادت 1255 ہجری میں رامپور میں ہوئی اور “مظہر علی” آپ کا تاریخی نام ہے، کم سنی ہی میں والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا، جس کے باعث باقاعدہ تعلیم کا سلسلہ ابتدا میں ممکن نہ ہوسکا، تاہم بچپن ہی سے درویشوں کی خدمت کا شوق آپ کی فطرت میں شامل تھا، پیر برخوردار کے مزار پر فدا علی نامی ایک درویش مقیم تھے، آپ ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور روحانی فیوض حاصل کرتے تھے، ایک موقع پر ایک طوائف کے متعلق یہ ذکر سنا کہ وہ صاحبِ علم ہے، جس کا آپ پر گہرا اثر ہوا، چنانچہ آپ نے علم کے حصول کی طرف توجہ دی اور حکیم عبدالخالق سے ابتدائی کتب پڑھنا شروع کیں، بعد ازاں شیخ احمد علی کی خدمت میں حاضر ہو کر باقاعدہ درس کی تکمیل کی اور علمی پختگی حاصل کی، نواب کلب علی خاں کے عہد میں آپ فوج میں ملازم ہوئے مگر اپنی علمی قابلیت، دیانت داری اور تقدسِ نفس کے باعث جلد ہی عدالتِ دیوانی میں سررشتہ دار کے منصب پر فائز کر دیے گئے، سنہ 1304 ہجری میں مدرسۂ عالیہ میں فارسی کے مدرس مقرر ہوئے، 1901ء میں آپ نے تدریسی فرائض سے کنارہ کش ہو کر گوشہ نشینی اختیار کر لی اور باقی زندگی عبادت و ریاضت میں بسر کی، آپ کی تصانیف میں میزانِ سخنِ منظوم (فارسی میں علمِ عروض پر ایک مستقل کتاب) اور حدیقۃ البیان خصوصیت سے قابلِ ذکر ہیں، آپ نے نظم و نثر دونوں میں اور اردو و فارسی دونوں زبانوں میں طبع آزمائی کی، تاہم اپنا کلام باقاعدہ طور پر مرتب نہ کر سکے، آپ کا انتقال 19 ذی الحجہ 1334 ہجری مطابق 11 اکتوبر 1916ء کو ہوا۔