Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

ابرارالحق کیفؔ

1860 - 1913 | بدایوں, بھارت

داغ دہلوی کے رنگِ سخن کو نعتیہ ادب میں ڈھالنے والے سخنور۔

داغ دہلوی کے رنگِ سخن کو نعتیہ ادب میں ڈھالنے والے سخنور۔

ابرارالحق کیفؔ کا تعارف

تخلص : 'کیف'

اصلی نام : ابرارالحق

پیدائش :بدایوں, اتر پردیش

وفات : 11 Jul 1913 | اتر پردیش, بھارت

ابرارالحق بن مولوی انوارالحق، بدایوں کے محلہ مولوی ٹولی میں ایک معزز عثمانی خاندان میں 1277ھ میں پیدا ہوئے، انہوں نے دینی علوم کی تکمیل مولانا عبدالقادر بدایونی سے کی، جبکہ فنِ طب میں مہارت حکیم سراج الحق عثمانی سے حاصل کی، ادبی میدان میں انہیں داغ دہلوی سے تلمذ کا شرف حاصل تھا، انہوں نے نہایت فصاحت و بلاغت کے ساتھ عاشقانہ مضامین پر مشتمل چار دیوان مرتب کیے، تاہم وہ شائع نہ ہو سکے، بعد ازاں ان کا رجحان نعت و منقبت کی طرف ہوگیا اور اسی صنف میں انہوں نے اپنے ذوق کا اظہار کیا،ع لمی و لسانی میدان میں بھی ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں، انہوں نے تذکیر و تانیث کے موضوع پر ایک مبسوط رسالہ تصنیف کیا جس میں اساتذۂ سخن کے کلام سے شواہد پیش کیے گئے تھے، اسی طرح محاورات پر بھی ایک مستقل رسالہ مرتب کیا، علاوہ ازیں فنِ طب میں بھی چند مفید رسائل تحریر کیے لیکن افسوس کہ ان کی اکثر تصانیف اشاعت سے محروم رہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے