Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

ادب سیتا پوری

1909 | سیتا پور, بھارت

سیتاپور کے ممتاز کائستھ خانوادے سے تعلق رکھنے والے شاعر و ادبی منتظم تھے، جنہیں غزل کے ساتھ نعت اور سلام گوئی سے خصوصی شغف تھا اور جن کا مجموعۂ سلام ’’اشکِ خلوص‘‘ شائع ہوا۔

سیتاپور کے ممتاز کائستھ خانوادے سے تعلق رکھنے والے شاعر و ادبی منتظم تھے، جنہیں غزل کے ساتھ نعت اور سلام گوئی سے خصوصی شغف تھا اور جن کا مجموعۂ سلام ’’اشکِ خلوص‘‘ شائع ہوا۔

ادب سیتا پوری کا تعارف

تخلص : 'ادب'

اصلی نام : سورج نرائن سنہا

پیدائش :سیتا پور, اتر پردیش

ادب سیتاپوری کی پیدائش 1909ء میں سیتاپور کے محلہ ترین میں ایک معزز اور باوقار کائستھ خانوادے میں ہوئی، ان کے والد کنور سروپ نرائن اپنے علاقے کی ممتاز شخصیات میں شمار ہوتے تھے، جبکہ ان کے جد امجد مشہور قانون داں پیتم رائے "کاوش" اصلاً بریلی کے باشندے تھے، 1857ء کے غدر کے پُرآشوب حالات میں انہوں نے اپنا آبائی وطن ترک کر کے سیتاپور کو مستقل جائے سکونت بنایا، ادب سیتاپوری نے اپنی ابتدائی تعلیم گھر ہی میں بزرگوں کی نگرانی اور سرپرستی میں حاصل کی، بعد ازاں وہ باقاعدہ تعلیم کے لیے اسکول میں داخل ہوئے لیکن ان کی تعلیمی سرگرمیاں انٹرمیڈیٹ تک پہنچ کر منقطع ہوگئیں، تقریباً 1950ء کے آس پاس انہوں نے باقاعدہ شاعری کا آغاز کیا اور فنِ سخن میں کمال پیدا کرنے کے لیے عشق لکھنوی کی شاگردی اختیار کی، اس کے علاوہ وہ وقتاً فوقتاً سالک لکھنوی سے بھی اپنے کلام پر مشورۂ سخن کرتے رہتے تھے، ادب سیتاپوری صرف شاعر ہی نہ تھے بلکہ ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فعال منتظم بھی تھے، مختلف ادبی تقریبات اور شعری نشستوں کے انعقاد میں وہ نہایت جوش و خروش سے حصہ لیتے اور اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کو اپنی ادبی ذمہ داری سمجھتے تھے، انہیں آل انڈیا اردو تحریک کا نائب صدر منتخب کیا گیا تھا، سیتاپور میں واقع ان کی وسیع و عالیشان رہائش گاہ اہلِ علم و ادب کی نشستوں کا مرکز بن گئی تھی، جہاں شعر و سخن کی محفلیں برپا ہوتیں اور ملک کے نامور شعرا و ادبا کا اجتماع رہتا تھا، موصوف کو غزل سے فطری مناسبت حاصل تھی، تاہم ان کی شعری صلاحیت کسی ایک صنف تک محدود نہ رہی، انہوں نے نعت، سلام، قطعہ، رباعی اور دیگر اصنافِ سخن میں بھی نہایت کامیاب طبع آزمائی کی، بالخصوص نعت اور سلام گوئی سے انہیں غیر معمولی شغف تھا اور وہ ان اصناف میں بڑے اہتمام، عقیدت اور فنی نزاکت کے ساتھ اظہارِ خیال کرتے تھے، ان کے سلاموں کا مجموعہ "اشکِ خلوص" شائع ہوچکا ہے، 2 اگست 1962ء کو لکھنؤ میں قیام کے دوران انہیں اچانک قلبی دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا اور یوں اردو ادب کا یہ مخلص خادم اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا، ان کی میت سیتاپور لائی گئی جہاں آخری رسومات ادا کی گئیں۔ 

موضوعات

Recitation

بولیے