Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

اکمل جالندھری

1907 | جالندھر, بھارت

جالندھر کے ممتاز شاعر تھے، جنہوں نے ظفر سوہانوی اور بشیشور پرشاد ’’منور‘‘ لکھنوی سے تلمذ حاصل کیا، ریلوے میں خدمات انجام دیں اور ’’بوئے گل‘‘ و ’’نالۂ دل‘‘ جیسے شعری مجموعے یادگار چھوڑے۔

جالندھر کے ممتاز شاعر تھے، جنہوں نے ظفر سوہانوی اور بشیشور پرشاد ’’منور‘‘ لکھنوی سے تلمذ حاصل کیا، ریلوے میں خدمات انجام دیں اور ’’بوئے گل‘‘ و ’’نالۂ دل‘‘ جیسے شعری مجموعے یادگار چھوڑے۔

اکمل جالندھری کا تعارف

تخلص : 'اکمل'

اصلی نام : رام پرتاپ

پیدائش :جالندھر, پنجاب

اکمل جالندھری جن کا تعلق جالندھر کے ایک معزز ہندو خانوادے سے تھا، پنڈت بھگت رام کے فرزند تھے، ان کی پیدائش 1907ء میں جالندھر میں ہوئی، ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے ایف۔اے تک باقاعدہ تعلیم حاصل کی، اگرچہ ان کی رسمی تعلیم اس مرحلے پر اختتام پذیر ہوئی، تاہم علم و ادب سے ان کی وابستگی مسلسل قائم رہی، شاعری میں انہیں دو ممتاز اساتذۂ فن ظفر سوہانوی اور بشیشور پرشاد "منور" لکھنوی سے کسبِ فیض کا شرف حاصل ہوا، عملی زندگی میں انہوں نے محکمۂ ریلوے میں طویل عرصے تک نہایت دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ خدمات انجام دیں، ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد انہوں نے دہلی کو اپنا مستقل مسکن بنایا، جہاں علمی و ادبی سرگرمیوں سے ان کا تعلق بدستور قائم رہا، ان کا پہلا شعری مجموعہ "بوئے گل" 1957ء میں شائع ہوا، اس کے بعد ان کا دوسرا مجموعۂ کلام "نالۂ دل" 1962ء میں منظرِ عام پر آیا، 20 جنوری 1974ء کو یہ صاحبِ طرز شاعر اس دارِ فانی سے رخصت ہوا۔

موضوعات

Recitation

بولیے