Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

علی احمد خان اسیرؔ

1854 - 1927 | بدایوں, بھارت

ایک صوفی منش شاعر جن کے کلام میں علم و عرفان کی روشنی جھلکتی ہے۔

ایک صوفی منش شاعر جن کے کلام میں علم و عرفان کی روشنی جھلکتی ہے۔

علی احمد خان اسیرؔ کا تعارف

اسیر کے اسلاف کا تعلق ایک قبائلی خطے سے تھا، جہاں سے وہ ہجرت کر کے بریلی میں سکونت پذیر ہوئے، یہ وہ زمانہ تھا جب حافظ رحمت خاں کی حکومت قائم تھی، بعد ازاں اسیر کے والد جنگ باز خاں نے معاشی اسباب کے تحت 1881ء سے کچھ پہلے بدایوں کو اپنا مسکن بنایا اور وہیں مستقل طور پر آباد ہوگئے، اسیر 1851ء میں بریلی میں پیدا ہوئے، ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی اور فارسی کی تکمیل مولوی ہدایت علی بریلوی سے کی، بعد ازاں علومِ نقلیہ کی تحصیل مولانا عبدالقادر بدایونی کے زیرِ نگرانی کی، جبکہ علمِ حدیث میں مولوی محمد حسن بنی اسرائیل سے فیض حاصل کیا، اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اسیر نے مدرسۂ عالیہ، رامپور میں داخلہ لیا، جہاں انہیں مولانا عبدالحق خیرآبادی جیسے جلیل القدر استاد کی شاگردی نصیب ہوئی، یہاں انہوں نے منطق و فلسفہ کی تکمیل کی اور علمی و فکری پختگی حاصل کی، 1922ء میں اسیر نے فریضۂ حج ادا کیا اور زندگی کے آخری ایام مدینہ منورہ میں بسر کیے، جہاں 20 جولائی 1927ء کو ان کا وصال ہوا، اسیر نہ صرف ایک صاحبِ علم شخصیت تھے بلکہ ایک صاحبِ دل اور صاحبِ عمل انسان بھی تھے، انہوں نے سادہ اور زاہدانہ زندگی بسر کی اور دنیاوی تکلفات سے ہمیشہ کنارہ کش رہے، روحانی اعتبار سے انہیں سلسلۂ قادریہ سے قلبی وابستگی تھی جسے وہ باعثِ افتخار سمجھتے تھے، تاہم بیعت انہوں نے سلسلۂ نقشبندیہ میں حضرت عاشق احمد غزنوی کے دستِ حق پرست پر کی، یوں اسیر کی شخصیت علم و عمل، تصوف و سادگی اور روایت و روحانیت کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے