Font by Mehr Nastaliq Web
Ali Hussain Ashrafi's Photo'

علی حسین اشرفی

1850 - 1936 | کچھوچھہ شریف, بھارت

گلستان مخدوم اشرف کا ایک روشن چراغ

گلستان مخدوم اشرف کا ایک روشن چراغ

علی حسین اشرفی کے صوفی اقوال

باعتبار

انسان کو چاہیے کہ موت کو ہمیشہ یاد رکھے کہ یہ نفس کی تمام بیماریوں کا علاج ہے۔

انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کا ہم نشین ہے۔

انسان نفس کی خواہش پوری کرنے میں مصروف ہے اور نفس اسے برباد کرنے میں لگا ہے۔

نعمت تھوڑی ہو یا زیادہ اس پر خدا کا شکر واجب ہے، فقر و فاقہ سے تنگ دل ہوکر ناشکری ہرگز نہ کرے۔

خدا کی یاد میں لگے رہو، دھیر دھیرے ایک دن ضرور بگڑی بن جائے گی۔

مسندِ ارشاد پر بیٹھنے اور بیعت لینے کا حق اسی کو ہے جو اپنی آنکھوں سے جتنا آگے دیکھتا ہے اتنا ہی پیچھے بھی دیکھتا ہو اور کم از کم ۲۴؍گھنٹے میں ایک بار اپنے تمام مریدوں کے احوال کا جائزہ لیتا ہو۔

جب کوئی ظلم کرتا ہے تو مظلوم کی دنیا خراب کرتا ہے اور اپنی آخرت تباہ کرتا ہے۔

عاقل انسان پہلے دل سے پوچھتا ہے پھر زبان سے نکالتا ہے۔

مخلوق کے ساتھ محبت اور ان کی خیر خواہی کرے۔

انسان کو چاہیے کہ دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کے بجائے اپنے عیبوں کو تلاش کرے اور ان کی اصلاح کرے کسی پر بدگمانی ہرگز نہ کرے۔

انسان کو چاہیے کہ کسی کا حق نہ رکھے اور نہ کسی کو زبان یا ہاتھ سے تکلیف پہنچائے نہ کسی کی برائی کرے۔

انسان حق تعالیٰ سے کم از کم اتنا شرمائے جتنا اپنے دیندار پڑوسی سے۔

بے ادب خالق اور مخلوق دونوں کا معتوب اور مغضوب ہے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے