تمام
غزل5
ویڈیو 1
تعارف
کلام1
فارسی صوفی شاعری6
دوہرا15
بھجن2
صوفی اقوال13
نعت و منقبت13
گاگر1
ساون2
ہولی8
گیت33
علی حسین اشرفی کے صوفی اقوال
انسان کو چاہیے کہ موت کو ہمیشہ یاد رکھے کہ یہ نفس کی تمام بیماریوں کا علاج ہے۔
انسان نفس کی خواہش پوری کرنے میں مصروف ہے اور نفس اسے برباد کرنے میں لگا ہے۔
نعمت تھوڑی ہو یا زیادہ اس پر خدا کا شکر واجب ہے، فقر و فاقہ سے تنگ دل ہوکر ناشکری ہرگز نہ کرے۔
مسندِ ارشاد پر بیٹھنے اور بیعت لینے کا حق اسی کو ہے جو اپنی آنکھوں سے جتنا آگے دیکھتا ہے اتنا ہی پیچھے بھی دیکھتا ہو اور کم از کم ۲۴؍گھنٹے میں ایک بار اپنے تمام مریدوں کے احوال کا جائزہ لیتا ہو۔
جب کوئی ظلم کرتا ہے تو مظلوم کی دنیا خراب کرتا ہے اور اپنی آخرت تباہ کرتا ہے۔
انسان کو چاہیے کہ دوسروں کے عیب ڈھونڈنے کے بجائے اپنے عیبوں کو تلاش کرے اور ان کی اصلاح کرے کسی پر بدگمانی ہرگز نہ کرے۔
انسان کو چاہیے کہ کسی کا حق نہ رکھے اور نہ کسی کو زبان یا ہاتھ سے تکلیف پہنچائے نہ کسی کی برائی کرے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere